نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کے دفتر میں آج اپوزیشن کے فلور لیڈروں کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی، جس میں پارلیمنٹ کے ایوان میں پیش آنے والے اہم بلوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت پارلیمنٹ کے اس خصوصی سیشن میں کئی اہم آئینی اور قانونی بل پیش کرنے جا رہی ہے، جن میں خواتین کے لیے ریزرویشن، حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق قوانین شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ان میں سے بعض تجاویز پر سخت تحفظات رکھتی ہیں، جس کے باعث پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث اور ممکنہ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اہم بلوں کی پیشی اور حکومت کا ایجنڈا
اطلاعات کے مطابق اس خصوصی اجلاس میں تین بڑے بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں خواتین کے لیے لوک سبھا میں نشستیں محفوظ کرنے سے متعلق ترمیمی بل، حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) بل 2026، اور یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل شامل ہیں۔ وزیر قانون ارجن رام میگھوال آئینی ترمیمی بل اور ڈیلمیٹیشن بل پیش کریں گے، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یونین ٹیریٹوریز سے متعلق بل پیش کریں گے۔ حکومت کا مقصد ناری شکتی وندن ادھینیم 2023 کو عملی شکل دینا ہے، تاکہ 2029 کے عام انتخابات سے قبل خواتین کو پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے اسے 543 سے بڑھا کر ممکنہ طور پر 850 تک لے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اپوزیشن کے خدشات اور ڈیلمیٹیشن پر اعتراضات
اپوزیشن جماعتوں نے خاص طور پر ڈیلمیٹیشن بل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلقہ بندی کے عمل میں شفافیت کی کمی اور مردم شماری کے اعداد و شمار کو نظر انداز کرنے سے جمہوری توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا ماننا ہے کہ نشستوں میں اضافہ اور نئی حد بندیاں بعض ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن سکتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کے لیے۔ اگرچہ اپوزیشن نے خواتین کے لیے ریزرویشن کی اصولی حمایت کی ہے، لیکن وہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اس عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے اور اسے دیگر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
پارلیمانی قواعد میں نرمی اور سیاسی کشیدگی
حکومت نے ان بلوں کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی قواعد میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت لوک سبھا کے قواعد کے ضابطہ 66 کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی تاکہ خواتین ریزرویشن ترمیمی بل اور ڈیلمیٹیشن بل کو ایک ساتھ منظور کیا جا سکے۔ اس اقدام کو اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے پارلیمانی روایتوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں اور اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر منظور کریں۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں ملک کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے سے متعلق اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کی یہ میٹنگ اسی پس منظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وہ پارلیمنٹ میں اپنی مشترکہ حکمت عملی طے کرے گی اور حکومت کو چیلنج دینے کے لیے متحد موقف اختیار کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…