قومی

Maharashtra Politics: ’شکار کرنے والا خود ہی شکار بن گیا…‘، روہت پوار کا ایکناتھ شندے پر بڑا طنز، آخر کیا ہے ’آپریشن ٹائیگر‘ جس پر مچا ہوا ہے سیاسی گھمسان؟

مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پیر (22 جون 2026) سے شروع ہونے والے مہاراشٹر اسمبلی کے تین ہفتوں پر مشتمل اہم مانسون اجلاس سے قبل حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ریاست کی سیاست میں ان دنوں ’آپریشن ٹائیگر‘ اور ’آپریشن وولف‘ جیسے الفاظ نے سیاسی ماحول کو پوری طرح گرم کر دیا ہے۔اسی دوران این سی پی (شرد چندر پوار) کے سینئر رہنما روہت پوار اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور مہایوتی اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے سخت تنقید کی ہے، جس سے واضح ہے کہ 10 جولائی تک جاری رہنے والا یہ اجلاس صرف قانون سازی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سیاسی طاقت کے مظاہرے کا میدان بھی بنے گا۔

روہت پوار کا بیان وائرل

سیاسی کشمکش کے درمیان این سی پی (ایس ایس پی) کے رہنما روہت پوار کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے ناسک قانون ساز کونسل کے انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر براہِ راست طنز کیا۔ روہت پوار نے کہا کہ ایکناتھ شندے کل تک ’آپریشن ٹائیگر‘ کو لے کر بہت خوش تھے، لیکن اب زمینی حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس بار حکمت عملی الٹی پڑ گئی اور ’’شکار کرنے والا خود ہی شکار بن گیا‘‘۔ سیاسی مبصرین روہت پوار کے اس بیان کو مہایوتی کی حکمت عملی پر اپوزیشن کے ایک بڑے نفسیاتی حملے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ادیتیہ ٹھاکرے کا ’انصاف‘ کے لیے مطالبہ

دوسری جانب شیو سینا (یو بی ٹی) کے کیمپ میں بھی شدید ناراضی اور جارحانہ رویہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کے تحت لوک سبھا ارکان کے مبینہ انحرافِ جماعت کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور وقت آنے پر اس کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے جواب میں انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے ’آپریشن وولف‘ شروع کرنے کی کھلی وارننگ بھی دی۔ ادیتیہ ٹھاکرے نے قانون اور عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ان کی پارٹی کو توڑا گیا، اسی طرح دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ضروری ہے۔

مانسون اجلاس میں سیاسی برتری کی جنگ

اس بار اسمبلی اور قانون ساز کونسل، دونوں ایوانوں میں باضابطہ قائدِ حزبِ اختلاف موجود نہ ہونے کے باعث حکمراں اتحاد مہایوتی اپنے قانون سازی کے ایجنڈے اور ضمنی بجٹ مطالبات کو تیزی سے منظور کرانے کی تیاری میں ہے۔ اجلاس کے پہلے ہی ہفتے میں قانون ساز کونسل کے نائب چیئرمین کے عہدے کے لیے انتخاب ہونے کا امکان ہے، جہاں شیو سینا کی رہنما نیلم گورہے کو دوبارہ اس منصب پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مانسون اجلاس کے دوران مہاراشٹر میں اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی برتری کی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

12 minutes ago

Chief Justice Surya Kant: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

44 minutes ago