نئی دہلی/پہلگام/لکھنؤ/جے پور: لِدّر ندی آج بھی اسی رفتار سے بہہ رہی ہے—جیسے وقت کبھی رکا ہی نہ ہو۔ مگر اس کے کنارے کھڑا وہ پتھر، وہ یادگار، ہر گزرنے والے کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ 22 اپریل 2025 کو بیسرن وادی کے اس خوبصورت میدان میں جو کچھ ہوا، اس نے صرف 26 جانیں نہیں لیں—بلکہ پورے ملک کے دل پر ایک گہرا زخم چھوڑ دیا۔ آج وہی مقام غم، یاد اور عزم کا مرکز بن چکا ہے۔ سیاح اب یہاں صرف تصاویر لینے نہیں آتے، بلکہ رک کر سوچتے ہیں۔ ایک خاموشی—جو کسی بھی تقریر سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اس سال پہلگام حملہ کی برسی صرف سوگ کا دن نہیں رہی، بلکہ ایک واضح پیغام بن کر سامنے آئی—دہشت گردی کو اب کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مسلم راشٹریہ منچ نے ملک بھر میں اجلاس، احتجاج اور عوامی پروگرام منعقد کر کے اس دن کو ایک عوامی تحریک کی شکل دے دی۔ سڑکوں پر غصہ تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، مگر سب سے بڑھ کر ایک مضبوط عزم تھا۔ پتلے جلائے گئے، نعرے لگے، اور ہر آواز میں ایک ہی بات تھی—اب جواب ملے گا، اور فیصلہ کن ہوگا۔
اندریش کمار: آر پار کی لڑائی
اندریش کمار نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کوئی عارضی قدم نہیں بلکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہنے والا مشن ہے۔ ان کے الفاظ میں صاف انتباہ تھا کہ بھارت اب برداشت کرنے والا ملک نہیں رہا۔ اگر پاکستان کی سرپرستی میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا، تو جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی پہلگام کے ہر متاثر کے آنسوؤں کا جواب ہے۔
پاکستان پر براہِ راست حملہ—پالیسیوں پر سوال
اندریش کمار نے پاکستان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی حکمتِ عملی کا انجام طے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اندرونی عدم استحکام کا شکار ہے اور آنے والے وقت میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) ایک دن بھارت کا حصہ بنے گا—یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ مستقبل کی سمت ہے۔
ڈاکٹر شاہد اختر: یہ پورے ملک کی جنگ ہے
پروفیسر(ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ پہلگام جیسے واقعات صرف سیکورٹی فورسز کے لیے چیلنج نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک وارننگ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر شہری کی شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت سے مزید سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
ڈاکٹر شالینی علی: ہر آنسو کا جواب
ڈاکٹر شالینی علی نے جذباتی انداز میں کہا کہ پہلگام میں جن خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، ان کے درد کو پورے ملک نے محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے اس کا جواب دیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ انہوں نے ملک کی خواتین سے بھی اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں مضبوطی سے کھڑی رہیں۔
محمد افضل: اب صرف باتیں نہیں، عملی اقدام
قومی کنوینر محمد افضل نے واضح کیا کہ اب صرف بیانات کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز اور مسلسل رکھا جائے۔ ان کے مطابق حقیقی خراجِ عقیدت تبھی ہوگا جب دہشت گردی کی جڑوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
ملک بھر میں غصہ—ایک آواز، ایک مطالبہ
پہلگام کی برسی نے ایک بار پھر یہ یاد دلایا کہ دہشت گردی کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ قوم کی روح پر براہِ راست حملہ ہے۔ اس بار ملک نے صرف آنسو نہیں بہائے بلکہ اپنے غصے کو ایک مضبوط عزم میں بدل دیا۔ پیغام بالکل واضح ہے—نہ بھولیں گے، نہ چھوڑیں گے۔ جب تک دہشت گردی کی آخری جڑ ختم نہیں ہوتی، یہ لڑائی جاری رہے گی۔ اسی لیے مسلم راشٹریہ منچ کی قیادت میں ملک بھر میں عوامی غصہ سڑکوں پر نظر آیا۔ کہیں ریلیاں نکالی گئیں، کہیں جلوس، اور کہیں دہشت گردی کے علامتی پتلے جلائے گئے۔ ہر شہر، ہر اجتماع میں ایک ہی آواز گونجی—اب نرمی نہیں، سیدھی اور فیصلہ کن کارروائی۔ یہ صرف احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک عوامی احساس تھا، جو صاف کہہ رہا تھا کہ ملک اب مزید انتظار نہیں کرے گا۔ لوگوں نے ایک آواز میں حکومت اور فوج سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہ رکے، نہ جھکے، بلکہ مزید تیز کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…