اسد الدین اویسی اور کرن رجیجو
نئی دہلی: لوک سبھا میں پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد اسد الدین اویسی کی طرف سے لگائے گئے ‘جئے فلسطین’ کے نعرے کا جواب دیتے ہوئے مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ ہندوستانی ایوان کے اندر کسی دوسرے ملک کی حمایت میں نعرہ لگانا صحیح نہیں ہے۔
کرن رجیجو نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ ایک رکن (اسد الدین اویسی) نے حلف لینے کے بعد ’جے فلسطین‘ کا نعرہ لگایا۔ وہ چیئر سے بات کریں گے کہ قواعد کے مطابق کیا کرنا چاہیے۔ ہم کسی ملک کی مخالفت نہیں کرتے، ہماری کسی ملک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ لیکن، وہ بھارتی ایوان کے اندر کسی دوسرے ملک کے لیے نعرہ لگاناا درست نہیں سمجھتے۔ لیکن اس پر قواعد کے مطابق آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
وہیں، حلف لینے کے دوران اپنے الفاظ پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا، ’’ہر کوئی بہت کچھ کہہ رہا ہے… میں نے صرف کہا ’’جئے بھیم، جئے میم، جئے تلنگانہ، جئے فلسطین‘‘… یہ کس طرح سے خلاف ہے؟ آئین میں موجود شق دکھائیں…‘‘
درحقیقت، منگل کے روز پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایوان میں ’جے بھیم، جے میم، جے تلنگانہ‘ اور آخر میں ’جے فلسطین‘ کے نعرے لگائے۔ جب اویسی نے ایوان میں کسی دوسرے ملک کا نعرہ لگانا شروع کیا تو بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے ایوان کے اندر احتجاج شروع کر دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
مشہور لوک گلوکارہ کلپنا پٹواری کا چھٹھ گیت ’جگت کے پالک دیناناتھ‘ عقیدت مندوں میں…
بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا کی آلودگی سے پاک دیوالی مہم سے متعلق شروع ہوا…
ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی نوجوان اسپنر ویشنوِی شرما نے آئی سی سی ویمنز ون…
ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ پرلے میزائل کا اڈیشہ کے چندی پور میں…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے انڈیا اتحاد میں شمولیت کے معاملے پر سیاسی…
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…