قومی

Okhla Assembly Election Result 2025: امانت اللہ خان نے لگائی ہیٹ ٹرک، 23639 ووٹوں سے منیش چودھری کو ہرایا، شفاء الرحمٰن کی شاندار کارکردگی

نئی دہلی: دہلی اسمبلی الیکشن 2025 کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ بی جے پی نے 27 سالوں کے بعد دہلی میں جیت حاصل کی ہے اور عام آدمی پارٹی کے قلعہ کومنہدم کردیا ہے۔ 2013 کے بعد سے اروند کیجریوال کی پارٹی جیت حاصل کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بی جے پی 48 سیٹوں پرآگے چل رہی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کو 22 سیٹیں حاصل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی اقتدار سے بے دخل ہوگئی ہے اوراب بی جے پی کی حکومت بننی جارہی ہے۔ دہلی میں تیسری بار کانگریس کوئی بھی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اوکھلا کی سیٹ عام آدمی پارٹی بچانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

اوکھلا اسمبلی حلقہ میں امانت اللہ خان نے ہیٹ ٹرک لگائی ہے۔ وہ تیسری بار اوکھلا کی سیٹ سے جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، امانت اللہ خان نے تیسری بار 23639 ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ دوسرے نمبر پر بی جے پی کے منیش چودھری رہے انہیں 65304  ووٹ ملے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے امیدوارشفاء الرحمٰن تیسرے نمبر پر رہے۔ انہیں 39558 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کانگریس کی اریبہ خان چوتھے نمبرپررہیں۔ انہیں 12739  ووٹ ملے۔ الیکشن کمیشن نے امانت اللہ خان کی جیت کا اعلان کردیا ہے۔

امانت اللہ خان پہلی بار 2015 کے اسمبلی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے 2015 میں کانگریس کے آصف محمد خان کو ہرایا تھا۔ 2020 میں بھی عام آدمی پارٹی نے انہیں امیدوار بنایا تھا، جس کے بعد انہوں نے اروند کیجریوال کے بھروسے کو قائم رکھا تھا۔ امانت اللہ خان کو تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار ووٹ ملے تھے اور وہ 71 ہزار ووٹوں سے جیتے تھے جبکہ بی جے پی امیدوار برہم سنگھ کو 58 ہزار ووٹ ملے تھے اور کانگریس کے پرویز ہاشمی کوتقریباً 5 ہزار ووٹ ملے تھے۔

آپ کوبتا دیں کہ اس باراوکھلا اسمبلی سیٹ کے لیے ووٹنگ 5 فروری 2025 کو ہوئی تھی۔ 54.9 فیصد لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ مسلم ووٹروں کی اکثریت والی اوکھلا سیٹ 2015 سے عام آدمی پارٹی کا گڑھ رہی ہے۔ لیکن اس سے قبل اس سیٹ پرکانگریس کا دبدبہ تھا۔ 1993 کے انتخابات میں، پرویزہاشمی نے کانگریس میں شامل ہونے سے پہلے یہ سیٹ جنتا دل کے ٹکٹ پرجیتی تھی۔ پرویزہاشمی نے 1998، 2003 اور 2008 میں اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ پرویزہاشمی کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے آصف محمد خان نے 2009 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے تھے اور2013 میں انہوں نے کانگریس کے بینرتلے دہلی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور جیت حاصل کی تھی۔ اس کے بعد 2015 میں عام آدمی پارٹی کے لیڈرامانت اللہ خان نے یہاں اپنی پارٹی کا جھنڈا لہرایا۔ تاہم، اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے امیدوارشفاء الرحمان خان نے اوکھلا میں اپنی گرفت میں اضافہ کیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کودہلی اسمبلی کی اوکھلا سیٹ سے بھی بڑی امیدیں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Bhutan dedicates sacred stupa to Modi: بھوٹان نے وزیر اعظم مودی کو دیا خصوصی اعزاز، 108 بدھ اسٹوپوں میں سے 76واں اسٹوپا مودی کے نام سے منسوب

بدھ مذہب میں اسٹوپوں کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہیں صرف مذہبی یادگار نہیں سمجھا…

41 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ سمیت ان لیڈروں نے انقلابی واسودیو بلونت پھڑکے کی یوم پیدائش پر پیش کیا خراج عقیدت

امت شاہ نے کہ پھڑکے کے لیے ملک کی آزادی اور ہندوستانیوں کے وقار کے…

1 hour ago

GRAP 2 restrictions in Delhi: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی میں اضافہ، گریپ-2 نافذ،  جانئے کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔…

2 hours ago

Democrats Win Majority in the Senate: سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کو ملی اکثریت ، ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ملی شرم ناک شکست

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں…

3 hours ago