قومی

Office space uptick expected as 85% of Indian firms: آئندہ دو سال میں 85 فیصد بھارتی کمپنیاں دفتری جگہ بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں — سی بی آر ای رپورٹ

نئی دہلی— بھارت کی کارپوریٹ دنیا آئندہ دو برسوں میں دفتری جگہ کی طلب کا اہم محرک بننے جارہی ہے، کیونکہ سی بی آر ای (CBRE) کی تازہ ترین انڈیا آفس آکوپائر سروے 2025 رپورٹ کے مطابق، 85 فیصد مقامی کمپنیاں اپنے دفاتر کے دائرہ کار کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ شرح 2024 میں 73 فیصد تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رجحان اہم شعبوں میں مضبوط ترقی اور صنعتوں میں تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن سے جڑا ہوا ہے۔ 2018-19 کی پری کووڈ مدت کے مقابلے میں، 2023-24 میں مقامی کمپنیوں نے دفتری لیزنگ میں 86 فیصد کا شاندار اضافہ درج کیا۔

دفتر-فرسٹ پالیسی اور ہائبرڈ ماڈل کی سختی

آئندہ دو سالوں میں دفتری جگہ کی طلب کو دفتر-فرسٹ پالیسی اور سخت ہائبرڈ ورک ماڈلز مزید تقویت دیں گے۔ سروے کے مطابق، 94 فیصد کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ملازمین کم از کم ہفتے میں تین دن دفتر سے کام کریں۔ مزید یہ کہ 52 فیصد ادارے مکمل طور پر دفتر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جو 2024 میں 36 فیصد تھی۔ سی بی آر ای کے چیئرمین و سی ای او انشومن میگزین نے کہا: ’’جب صارفین مستقبل کے لیے تیار، اعلیٰ کارکردگی والے دفاتر کا مطالبہ کر رہے ہیں تو صنعت کو حکمتِ عملی پر مبنی اپ گریڈز، پائیداری پر مبنی ریٹروفٹس اور ڈیجیٹل انٹیگریشن والے ماحولیاتی نظام فراہم کرنے ہوں گے۔‘‘

لچکدار ورک اسپیسز اور جی سی سی کا بڑھتا کردار

سروے کے مطابق، لچکدار ورک اسپیس آپریٹرز اب بھارت کی آفس لیزنگ مارکیٹ میں مستقل طور پر 15 فیصد سے زائد سالانہ شیئر رکھتے ہیں اور آئندہ دو سال میں یہ تناسب مزید بڑھے گا۔ چھوٹے اداروں میں سے 58 فیصد آئندہ دو برس میں اپنی دفتری جگہ کا 10 فیصد سے زائد حصہ لچکدار ورک اسپیسز کے لیے مختص کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ بڑے اداروں میں یہ شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں، گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (GCCs) بھارت میں کل سالانہ آفس اسپیس ایبزارپشن کا 35-40 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ یہ مراکز اب صرف کم لاگت بیک آفس یونٹس نہیں رہے بلکہ آر اینڈ ڈی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انجینئرنگ جیسے ہائی ویلیو انوویشن ہبز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ 65 فیصد جی سی سی آئندہ دو برس میں اپنی دفتری جگہ بڑھانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جن میں BFSI، لائف سائنسز اور انجینئرنگ و مینوفیکچرنگ نمایاں شعبے ہیں۔ 2024 کے مقابلے میں 2025 کی پہلی ششماہی میں اوسط جی سی سی ڈیل سائز 91,000 مربع فٹ سے بڑھ کر 108,000 مربع فٹ ہو گیا۔

پائیداری اور نئے شہروں کی طرف توجہ

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 75 فیصد جی سی سی نے اپنے رئیل اسٹیٹ پورٹ فولیو کے لیے ESG اہداف متعین کر لیے ہیں، جو پائیداری کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ کمپنیاں ٹیلنٹ پول، کم لاگت اور بہتر ہوتی انفراسٹرکچر و کنیکٹیویٹی کے باعث ٹائر-ٹو اور ٹائر-تھری شہروں کو اگلے ترقیاتی مراکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ سی بی آر ای انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر (لیزنگ) رام چندنانی نے کہا: ’’جی سی سی اور بھارتی ادارے ملک کے آفس سیکٹر کا اگلا باب لکھ رہے ہیں۔ جی سی سی اکیلے ہی کل ایبزارپشن کا 35-40 فیصد حصہ رکھتے ہیں، جو ان کے تیزی سے ہائی ویلیو انوویشن ہبز میں بدلنے کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کی حمایت، سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے طلباء کے دھرنے اور بھوک ہڑتال کو حق بجانب قرار دیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…

47 minutes ago

Slap Case Delhi: ’یہ دیش تمہارے پِتا جی کا نہیں…‘ پرویش ورما پر برسے اروند کیجریوال، گرفتاری کا کیا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…

1 hour ago

Iran IRGC Warns US: ایران کے آئی آر جی سی کا امریکی صدر ٹرمپ کو انتباہ، جنگ ہوئی تو تباہی بحر ہند تک پھیلے گی

ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…

2 hours ago