اوڈیشہ کے بالاسورضلع میں ایک 22 سالہ طالبہ کے ذریعہ خودکوآگے لگائے جانے کے معاملے میں فقیرموہن آٹوموہن آٹونمس کالج کے پرنسپل کوگرفتارکرلیا گیا ہے۔ طالبہ نے یکم جولائی کوکالج کے ایک پروفیسرپرجنسی استحصال کے سنگین الزام لگائے تھے۔ اس نے ایک طویل خط کئی ماہ سے ہو رہے جنسی استحصال اوردھمکیوں کا ذکرکیا تھا۔
حالانکہ طالبہ کے مطابق، کالج انتظامیہ اورپولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے 11 دن بعد اس نے کالج احاطے میں ہی خود کوآگ لگا لی۔ طالبہ کوایمس بھونیشورمیں داخل کرایا گیا ہے، جہاں وہ 90 فیصد سے زیادہ جل چکی ہے اورزندگی کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ اس حادثہ کے بعد سیاسی تنازعہ، طلبہ تنظیموں کے احتجاج اور تعلیمی اداروں میں احتساب کے مطالبات میں شدت آگئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے اب پرنسپل کولاپرواہی اورشکایات کونظراندازکرنے کے الزام میں گرفتارکرلیا ہے۔
جنسی استحصال کی شکایت، پھربھی کالج انتظامیہ کی خاموشی
اوڈیشہ کے بالاسورضلع کے فقیرموہن کالج کی بی ایڈ کی طالبہ نے یکم جولائی کواپنے ڈپارٹمنٹ پروفیسرسمیرکمارساہوکے خلاف مسلسل جنسی استحصال اوردھمکیوں کی تحریری شکایت کالج کی داخلی شکایت کمیٹی کو سونپی تھی۔ طالبہ نے ایک طویل خط میں لکھا تھا، جس میں اس نے بتایا کہ کیسے کئی ماہ سے اس کا ذہنی اور جسمانی استحصال ہو رہا ہے۔ یہ خط طالبہ نے سوشل میڈیا پربھی شیئرکیا تھا، جس میں ریاست کے وزیراعلیٰ، وزیرتعلیم اورسینئرافسران کومخاطب کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے شلوک میں ناریل کے درخت کی…
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریز سے پہلے ویبھو سوریہ ونشی کی…
انگلینڈ کے خلاف 87 رن سے جیت میں عرفات منہاس کا آل راؤنڈ مظاہرہ، 59…
اسپتال میں زخمی کے دوست محسن نے بتایا کہ منگل کی رات تقریباً 9 بجے…
اٹل آواسیا یوجنا کے تحت مزدوروں اور یتیم بچوں کی بیٹیوں کو چھٹی سے بارہویں…
دہلی کا اے کیو آئی 284، نوئیڈا کا 315 اور غازی آباد کا 388 ریکارڈ؛…