قومی

Obra Assembly Seat: اوبرا اسمبلی سیٹ، کانگریس سے بائیں بازو اور پھر آر جے ڈی تک، بدلتے مینڈیٹ کا انتخابی مساوات

پٹنہ: اوبرا، بہار کے مگدھ علاقے کا ایک حلقہ، اپنی زرعی خوشحالی، صدیوں پرانی دستکاری اور سب سے بڑھ کر اپنے غیر متوقع انتخابی مزاج کے لیے جانا جاتا ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات کو کثیر الجہتی مقابلے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ووٹ کی تقسیم اتنی شدید تھی کہ اس کا براہ راست فائدہ آر جے ڈی کو ہوا۔ اوبرا، ضلع صدر مقام اورنگ آباد سے محض 15 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک چھوٹا مگر اہم قصبہ ہے، جو سیاسی تجزیہ نگاروں کے لیے ہمیشہ ایک پہیلی بنا رہا ہے۔

آزادی کے ابتدائی برسوں میں کانگریس نے یہاں تین بار کامیابی حاصل کی، مگر پھر سیاسی ہواؤں نے رخ بدلا۔ سوشلسٹ پارٹی، پرجا سوشلسٹ پارٹی، جنتا پارٹی اور یہاں تک کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بھی ایک ایک بار جیت کا ذائقہ چکھنے کا موقع ملا۔

سب سے بڑا موڑ 1995 میں آیا، جب راجارام سنگھ کشواہا نے سی پی آئی (مالے) کے ٹکٹ پر پہلی بار بائیں بازو کا پرچم لہرا دیا اور لگاتار دو بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ 2005 سے 2020 کے درمیان آر جے ڈی نے یہاں چار بار جیت درج کر کے اپنی گرفت مضبوط کی۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے لیے یہ سیٹ ہمیشہ چیلنج بنی رہی ہے — پارٹی آج تک یہاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

2020 میں آر جے ڈی کے نوجوان امیدوار رِشی سنگھ نے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) کے ڈاکٹر پرکاش چندر کو شکست دی۔ یہ جیت اس لیے بھی اہم تھی کہ این ڈی اے کے اتحادی — ایل جے پی اور جے ڈی یو — کے درمیان ووٹ تقسیم ہو گئے تھے۔

مقابلہ اتنا سخت تھا کہ جے ڈی یو کے سنیل کمار 25 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے، جبکہ رالو سپا کے اجے کمار نے 19 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے چوتھا مقام پایا۔

یہ علاقہ تین اہم دریاؤں  پون پون (مغرب و شمال میں)، ادری (مشرق میں) اور سون ندی (پھر مغرب میں) سے گھرا ہوا ہے۔ سون کے زرخیز میدان اس علاقے کی ریڑھ ہیں، جو دھان اور تل جیسی فصلوں کی بھرپور کاشت کے لیے مشہور ہیں۔

زرعی خوشحالی کے ساتھ ساتھ اوبرا کی شناخت یہاں کے ماہر کاریگروں سے بھی جڑی ہے۔ یہ قصبہ اپنے قالین (کارپٹ) اور کمبل کی صنعت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں قالین بافی کی روایت 15ویں صدی سے چلی آ رہی ہے، جبکہ کمبل بنانے کا ہنر بھی سو برس سے زائد پرانا ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق اوبرا بلاک کی کل آبادی 2,26,007 تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے 84.49 فیصد ووٹر دیہی پس منظر سے ہیں یعنی گاؤں کی چوپالوں اور کھیت کی میڑ پر ہونے والی بات چیت ہی یہاں کی سیاست کا رخ طے کرتی ہے۔

یہاں کے لوگ بنیادی طور پر مگہی، ہندی اور اردو بولتے ہیں۔ اوبرا اسمبلی سیٹ کاراکاٹ لوک سبھا حلقے کا ایک حصہ ہے، جس میں اوبرا اور داؤد نگر بلاک شامل ہیں ۔ اس کا انتخابی ماضی کسی رنگین قوسِ قزح سے کم نہیں — یہاں کسی ایک پارٹی کا غلبہ کبھی قائم نہیں رہا۔ اوبرا کے انتخابی میدان میں ہمیشہ ہلچل اور سیاسی اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

9 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

10 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

11 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago