مرکزی وزارت داخلہ نے منگل کے روز لوک سبھا کو مطلع کیا ہے کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر (NPR) کو اپ ڈیٹ کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایک تحریری جواب میں کہا کہ ’’نیشنل پاپولیشن رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ مردم شماری کرانے کے ارادے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ مکانات کی فہرست اور رہائشی مردم شماری کے لیے تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔‘‘
وزارت داخلہ نے بتایا کہ مردم شماری 2027 دو مراحل میں مکمل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں ’’ہاؤس لسٹنگ اینڈ ہاؤسنگ سینسس‘‘ ہوگا، جس میں گھروں کی حالت، سہولیات اور اثاثوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں ’’پاپولیشن اینیومریشن‘‘ کی جائے گی، جس میں ہر فرد کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور ذات پات سے متعلق معلومات درج کی جائیں گی۔ وزیر مملکت نتیانند رائے نے مزید بتایا کہ حکومت نے 16 جون 2025 کو مردم شماری کرانے کے ارادے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مردم شماری کا حوالہ جاتی دن یکم مارچ 2027 ہوگا، جب کہ برف سے ڈھکے علاقوں جیسے لداخ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے لیے یہ تاریخ یکم اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔‘‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ ابھی حتمی مراحل میں ہے۔ اس سے قبل وزارت داخلہ نے 22 جولائی کو لوک سبھا میں بتایا تھا کہ مردم شماری 2027 کی تیاری کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں 3 اور 4 جولائی کو دہلی میں دو روزہ کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مردم شماری کے ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں مردم شماری سے متعلق سرگرمیوں، انتظامی یونٹس کے فریم کی منظوری، موبائل ایپ کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے، سیلف اینیومریشن، اور “Census Management and Monitoring System (CMMS)” پورٹل کے استعمال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…