قومی

لوک سبھا اسپیکر کو ہٹانے کا نوٹس، اوم برلا کو ایوان میں دفاع کا اختیارہوگا حاصل، اپوزیشن نے لگایا تھا بھید بھاو کرنے کا الزام

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کی شروعات 9 مارچ سے ہونے جا رہی ہے۔ اس دن لوک سبھا اسپیکراوم برلا کے خلاف اپوزیشن کے ذریعہ عہدے سے ہٹانے سے متعلق تجویز پربحث ہوگی۔ اس دوران اوم برلا کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے۔ بلکہ اراکین کے درمیان بیٹھیں گے۔ دراصل، آئین اورلوک سبھا کے ضوابط کے مطابق، جب اسپیکرکو ہٹانے کی تجویزایوان میں لائی جاتی ہے تومتعلقہ اسپیکرکارروائی کی صدارت نہیں کرسکتے ہیں۔

اس تجویز کے ذریعہ اپوزیشن نے اوم برلا کی کارروائی کے دوران کھل کربھید بھاوکرنے کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدرجمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرتجویزپربحث کے دوران اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی اوردیگراپوزیشن لیڈران کوبولنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے کانگریس، سماجودادی پارٹی، ڈی ایم کے سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے لوک سبھا سکریٹریٹ کو یہ نوٹس سونپا ہے۔

118 اراکین پارلیمنٹ نے نوٹس پرکئے دستخط

کم ازکم 118 اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس نوٹس پردستخط کئے ہیں۔ حالانکہ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے اس پردستخط نہیں کئے۔ آئین کے ماہرپی ڈی ٹی آچاری کے مطابق، جب یہ تجویزایوان کے سامنے آئے گی تو اوم برلا کو اپنے بچاو کا آئینی اختیارہوگا۔ وہ بحث میں حصہ لے سکتے ہیں اورتجویز کے خلاف ووٹنگ بھی کرسکتے ہیں، لیکن انہیں ووٹ دینے کے لئے خودکارنظام کی بجائے پرچیوں کا استعمال کرنا ہوگا۔

کیا کہتا ہے آئین کا آرٹیکل 96

آئین کے آرٹیکل 96 کے مطابق، اسپیکریا ڈپٹی اسپیکراس وقت ایوان کی صدارت نہیں کرسکتے جب ان کے خلاف عہدے سے ہٹانے کی تجویزپرغورکیا جا رہا ہو۔ وہیں آرٹیکل 94 کے تحت لوک سبھا اسپیکرکوسادہ اکثریت سے منظورکردہ قرارداد کے ذریعہ عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ لوک سبھا کے قوانین کے مطابق، اس طرح کی تحریک کے لیے کم ازکم دو ممبران پارلیمنٹ کے دستخط کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی تعداد میں ممبران نوٹس پردستخط کرسکتے ہیں۔ ایوان میں تحریک پیش کرنے سے پہلے 14 دن کا نوٹس درکارہوتا ہے اوربحث کے بعد اسے 10 دن کے اندرحل کرنا ضروری ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کی تاریخ میں لوک سبھا کے اسپیکرکوہٹانے کی کوئی تحریک کبھی منظورنہیں کی گئی، کیونکہ عام طورپرایوان میں حکومت کے پاس اکثریت ہوتی ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Tej Pratap tried to enter the house: تیج پرتاپ نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، پہلی بار سامنے آئیں انوشکا یادو، ڈانڈیا پروگرام میں پہنچیں بیٹی کے ساتھ

انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…

22 minutes ago

A Chill in the Air in Delhi-NCR: دہلی-این سی آر میں سردی نے دی دستک، درجۂ حرارت 6 ڈگری تک گرا، آج بھی ہوگی بارش؟

کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…

57 minutes ago

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

2 hours ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

11 hours ago