قومی

Political Row Erupts in Bihar Assembly: ’تنخواہ نہیں مل رہی…‘ بہار اسمبلی میں تنخواہ تنازع پر سیاسی گھمسان، تیجسوی یادو کا سوال — کیا خزانہ خالی ہے؟

بہار اسمبلی کے اندر اس وقت ایک الگ ہی معاملہ زیرِ بحث ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے جیسے ہی اپنی اور دیگر ارکانِ اسمبلی کو تنخواہ نہ ملنے کا مسئلہ اٹھایا، تو حکمراں جماعت نے انہیں گھیرنے میں دیر نہیں لگائی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ترقیاتی مسائل پسِ منظر میں چلے گئے ہیں اور بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آیا حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے یا پھر انتظامیہ ناکام ہو گئی ہے۔ تیجسوی یادو نے براہِ راست نتیش کمار حکومت کی ’ڈبل انجن‘ والی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا خزانہ اس حد تک خالی ہو چکا ہے کہ تنخواہیں دینے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ تیجسوی کے مطابق حکومت کسی بھی مد میں فنڈ جاری نہیں کر پا رہی، جس کے باعث پورے صوبے میں کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب ارکانِ اسمبلی کو ہی وقت پر تنخواہ نہیں مل رہی تو عام عوام اور سرکاری ملازمین کا کیا حال ہوگا؟ یہ سرکاری نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

’اپنی تنخواہ کی فکر یا عوام کی؟‘ — حکمراں جماعت کا ردعمل

تیجسوی کے بیان کے بعد جے ڈی یو اور بی جے پی کے لیڈروں نے محاذ سنبھال لیا۔ حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ ایک ذمہ دار لیڈر کو عوامی مسائل پر بات کرنی چاہیے، نہ کہ اپنی تنخواہ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سچیندر پرساد سنگھ نے مانا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر کچھ تاخیر ہوئی ہے، لیکن انہوں نے تیجسوی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے انہیں اپنے حقوق کی لڑائی کے لیے منتخب کیا ہے، نہ کہ اپنی تنخواہ کا حساب مانگنے کے لیے۔ وہیں جے ڈی یو کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر شیام رجک نے اس بیان کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیجسوی جیسے بڑے لیڈر کو تنخواہ کی اتنی فکر زیب نہیں دیتی۔

کیا واقعی بہار میں معاشی بحران ہے؟

اس پورے تنازع کے دوران زمینی سطح پر جانچ میں کچھ چونکانے والی باتیں سامنے آئیں۔ آر جے ڈی کے رکن اسمبلی گوتم کرشن نے تصدیق کی کہ تنخواہوں میں تاخیر ہو رہی ہے اور حکومت معاشی محاذ پر کمزور نظر آ رہی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں اور سینئر صحافیوں کے مطابق بہار اس وقت ایک نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ سینئر صحافی ارون پانڈے کا کہنا ہے کہ ریاست میں ترقیاتی کام تقریباً ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کے لیڈر کا عہدہ انتہائی باوقار ہوتا ہے، اس لیے تیجسوی یادو کو تنخواہ جیسے ذاتی معاملے کے بجائے بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بڑے مسائل پر حکومت کو گھیرنا چاہیے تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

9 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

10 hours ago