قومی

نوئیڈا کے اسپا سینٹرمیں مساج نہیں، جسم فروشی کا کاروبار، تین مقامات پرزبردست چھاپہ ماری، 24 لڑکے-لڑکیاں حراست میں

اترپردیش کے نوئیڈا کے سیکٹر-49 تھانہ علاقے میں پولیس، اینٹی ہیومین ٹریفکنگ یونٹ اورقومی انسانی حقوق کمیشن کی مشترکہ ٹیم نے ایک ساتھ تین اسپا-مساج سینٹروں پرچھاپہ ماری کی۔ الزام تھا کہ اسپا سینٹروں کی آڑمیں شہرکے کئی علاقوں میں جسم فرورشی کا غیرقانونی نیٹ ورک چل رہا ہے۔ پولیس نے موقع پرپہنچ کر24 لڑکے اورلڑکیوں کوحراست میں لیا، جن میں سے کچھ قابل اعتراض حالت میں پائے گئے۔

پولیس نے پہلے سے منصوبہ بند چھاپوں کے بعد، کل دیررات سیکٹر-49 کے علاقے میں تین مختلف اسپا پارلروں پربیک وقت چھاپے مارے۔ موقع پرکل 24 نوجوان مرد وخواتین کوحراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، کچھ افراد قابل اعتراض حالت میں پائے گئے، جنہیں پوچھ گچھ کے لیے سیکٹر-49 تھانے لایا گیا۔ چھاپوں کے دوران اسپا سینٹروں سے متعدد دستاویزات، رجسٹراورموبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں۔ اب ان دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ نیٹ ورک کے اندرموجود دیگررابطوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

واٹس اپ کے ذریعہ چل رہا تھا غیرقانونی کاروبار

نوئیڈا کے ایڈیشنل ڈی سی پی منیشا سنگھ نے بتایا کہ یہ غیرقانونی سرگرمی واٹس اپ گروپ کے ذریعہ سے چلائی جا رہی تھی۔ اس نیٹ ورک سے منسلک لوگ کسٹمرکو خواتین کی تصاویر بھیج کراسپا سینٹروں میں بلاتے تھے، جہاں مساج اورپارلرخدمات کی آڑمیں جسم فروشی کرائی جاتی تھی۔ پولیس کوموقع سے کچھ ڈیجیٹل ثبوت، موبائل چیٹ اوررجسٹرملے ہیں، جن کی بنیاد پریہ پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس گروہ سے اورکون کون لوگ جڑے ہوئے ہیں اوریہ کاروبارکب سے چل رہا تھا۔

مقامی پولیس کے کردار پربھی سوال

اس پورے معاملے کے سامنے آنے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ نوئیڈا جیسے ہائی ٹیک شہرمیں یہ غیرقانونی کاروبارآخرکس کی شہہ پرچل رہا تھا۔ مقامی پولیس اورچوکی سطح پرتعینات اہلکاروں کے کردارپربھی سوال اٹھے ہیں کہ انہیں اس کی بھنک کیوں نہیں لگی۔ کچھ پولیس اہلکارجانچ کے دائرے میں آئے ہیں اورسینئرافسران نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ نوئیڈا کے جوائنٹ سی پی راجیو نارائن مشرا نے بتایا کہ مشن مکتی فاونڈیشن اورپولیس کی مشترکہ کارروائی میں تین اسپا سینٹروں پرچھاپہ ماری کرکے 24 لوگوں کوحراست میں لیا گیا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ انہیں اس غیرقانونی سرگرمی میں کسنے اورکیسے دھکیلا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لئے خصوصی ٹیم کی تشکیل کی جائے گی اوراگرجانچ میں کسی پولیس اہلکارکے ملوث ہونے کی بات سامنے آتی ہے تواس کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago