پٹنہ: بہار کی سیاست میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی حکومت اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ کابینہ کی آخری میٹنگ مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ نتیش کمار جلد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کریں گے، جس کے بعد ریاست میں نئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے پہلے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو لے کر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان آج سہ پہر 3 بجے بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں نئے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان کریں گے۔ اس کے بعد شام 4 بجے این ڈی اے کے تمام اتحادی اراکین کی میٹنگ میں اس نام کی توثیق کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب بہار میں این ڈی اے حکومت کی قیادت براہِ راست بی جے پی کے ہاتھ میں ہوگی۔
سمراٹ چودھری مضبوط دعویدار کے طور پر ابھرے
نئے وزیراعلیٰ کے لیے کئی نام زیرِ بحث ہیں، لیکن موجودہ نائب وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے سیاسی حالات اور رہنماؤں کی سرگرمیوں سے یہی اشارہ مل رہا ہے کہ سمراٹ چودھری کو قیادت سونپی جاسکتی ہے۔ ان کی رہائش گاہ حالیہ دنوں میں سیاسی ملاقاتوں کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں مختلف جماعتوں کے اہم رہنما مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے علاوہ جے ڈی یو اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی آمد و رفت نے بھی اس امکان کو مزید تقویت دی ہے کہ سمراٹ چودھری ہی اگلے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ دیگر نام جیسے نتیانند رائے، وجے سنہا، رینو دیوی، دلیپ جیسوال اور سنجے جیسوال بھی زیرغور ہیں، لیکن حتمی فیصلہ پارٹی میٹنگ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
بطور وزیراعلیٰ نتیش کمار کا آخری دن
نتیش کمار نے آج بطور وزیراعلیٰ اپنی آخری عوامی سرگرمی میں شرکت کی، جہاں انہوں نے امبیڈکر جینتی پروگرام میں حصہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے ریاستی سکریٹریٹ میں کابینہ کی آخری میٹنگ کی صدارت کی اور وزراء و افسران کے ساتھ گروپ فوٹو میں بھی شریک ہوئے۔ اب وہ جلد ہی راج بھون جا کر گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ یہ تبدیلی بہار کی سیاست میں ایک بڑے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے نتیش کمار کے بعد قیادت کا رخ بدلنے جا رہا ہے۔
این ڈی اے حکومت کی نئی تشکیل
بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے انتخاب کے بعد وہی شخص این ڈی اے قانون ساز پارٹی کا بھی لیڈر بنے گا اور وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوگا۔ بدھ کے روز صبح 11 بجے راج بھون میں نئی حکومت کی حلف برداری متوقع ہے، جس میں این ڈی اے کے پانچ اتحادیوں کے منتخب وزراء شامل ہوں گے۔ اس تقریب میں دہلی سے بی جے پی اور اتحادی جماعتوں کے کئی بڑے رہنما بھی شرکت کر سکتے ہیں، جس سے اس سیاسی تبدیلی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
سیاسی اشارے اور بدلتی صورتحال
گزشتہ چند دنوں میں سامنے آنے والے اشارے جیسے سینئر افسران اور سیاسی رہنماؤں کی سمراٹ چودھری سے ملاقاتیں اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اقتدار کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر سمراٹ چودھری وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔ بہار کی سیاست اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں ایک طویل عرصے تک قائم قیادت کے بعد نئی قیادت ابھرنے جا رہی ہے۔ آج ہونے والی میٹنگ اس سیاسی معمہ کو حل کر دیں گی اور واضح ہو جائے گا کہ ریاست کی باگ ڈور آئندہ کس کے ہاتھ میں ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…