قومی

Budget Reaction: ’’نرملا سیتارمن نے بجٹ کے بجائے بنگال انتخابات پر بات کی…‘‘، وزیر خزانہ  پر ڈمپل یادو کا نشانہ

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی رکنِ پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں بجٹ پر بحث کے دوران اصل موضوع کے بجائے مغربی بنگال کے انتخابات پر زیادہ بات کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈمپل یادو نے کہا کہ مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن بنگال انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بیان دے رہی تھیں۔ وہ بنگال میں خواتین کے خلاف جرائم پر بات کر رہی تھیں، لیکن اتر پردیش، اتراکھنڈ، بہار اور اوڈیشہ میں خواتین کے خلاف جرائم کا ذکر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ خزانہ نے یکطرفہ انداز اختیار کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ بھارت کی تجارتی ڈیل سے کہیں نہ کہیں ہمارے کسانوں کو نقصان ہوگا اور چھوٹے صنعت کار بھی متاثر ہوں گے۔

وہیں، سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہا کہ اس بجٹ میں کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات بھی اس میں نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق بجٹ میں بڑی بڑی باتیں اور دعوے تو کیے گئے ہیں، لیکن صرف باتوں سے حکومت نہیں چلتی، ان کے پیچھے عملی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں نہ نوجوانوں کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی عام آدمی کے لیے۔ ہم چاہتے تھے کہ کسانوں کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔ پارٹی کے قومی صدر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب کی ہمیں وزیرِ خزانہ سے توقع تھی، لیکن ان سوالات کا جواب نہیں ملا۔

پریا سروج نے مزید کہا کہ بجٹ ہماری توقعات پر پورا نہیں اترا۔ ان کے مطابق یہ محض اعداد و شمار پر مبنی اور انتخابی بجٹ ہے۔ بار بار کولکتہ، مغربی بنگال اور ممتا دیدی کا ذکر کیا گیا، لیکن دیے گئے جوابات تسلی بخش نہیں تھے۔ تعلیم، صحت، کسانوں اور روزگار جیسے اہم موضوعات پر بات نہیں کی گئی۔ چونکہ بنگال انتخابات کے حوالے سے بات کی جا رہی تھی، اسی لیے ہم نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ خزانہ صرف بنگال پر ہی گفتگو کر رہی تھیں۔

سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ آنند بھدوریا نے کہا کہ ہم نے واک آؤٹ نہیں کیا بلکہ وزیرِ خزانہ کی پوری تقریر سنی۔ حالانکہ، جس طرح پیش کیا گیا بجٹ کھوکھلا تھا، اسی طرح ان کا جواب بھی کھوکھلا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جواب کم اور انتخابی و سیاسی تقریر زیادہ تھی۔ مغربی بنگال کے جو لاکھوں کروڑوں روپے مرکز پر واجب الادا ہیں، انہیں ادا نہیں کیا گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وزیرِ خزانہ اپنی پارٹی کے لیے ووٹ مانگ رہی ہوں۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان کے سوالات کا مناسب جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

11 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

12 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

13 hours ago