نئی دہلی: ہندوستان کی نامور خاتون باکسر نکہت زرین نے اپنے عزم، محنت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا بلکہ ان سماجی رکاوٹوں کو بھی توڑ دیا جو ان کے خوابوں کی راہ میں حائل تھیں۔ ایک وقت ایسا تھا جب ان کی والدہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ وہ باکسنگ کے میدان میں قدم رکھیں، لیکن نکہت نے تمام مخالفتوں کے باوجود کامیابی کی نئی داستان رقم کی۔ نکہت زرین کی پیدائش 14 جون 1996 کو تلنگانہ کے شہر نظام آباد میں ہوئی۔ ان کے چچا باکسنگ کوچ تھے اور وہ نکہت کے بھائیوں کو تربیت دیا کرتے تھے۔ اسی ماحول میں نکہت کی دلچسپی بھی باکسنگ کی جانب بڑھی۔ صرف 13 برس کی عمر میں انہوں نے باکسر بننے کا فیصلہ کر لیا، تاہم ان کی والدہ سمیت خاندان کے کئی افراد اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے۔ صرف والد نے ان کا ساتھ دیا اور حوصلہ افزائی کی۔
تعلیم اور کھیل کے درمیان جدوجہد
نکہت نے ابتدائی تربیت اپنے چچا سے حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ باکسنگ کی سخت مشقیں جاری رکھنا آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے مسلسل محنت کی اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ ان کی محنت کا پہلا بڑا صلہ 2011 میں ملا، جب انہوں نے خواتین کی جونیئر اور یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس کے بعد 2014 کی یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں انہوں نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔
شدید انجری کے بعد شاندار واپسی
کامیابی کا سفر جاری تھا کہ دائیں کندھے کی سنگین چوٹ نے ان کے کیریئر کو بڑا دھچکا پہنچایا۔ ہڈی ٹوٹنے کے باعث انہیں سرجری کرانی پڑی اور تقریباً ایک سال تک باکسنگ رنگ سے دور رہنا پڑا۔ تاہم نکہت نے ہمت نہیں ہاری۔ مکمل صحت یابی کے بعد انہوں نے دوبارہ رنگ میں واپسی کی اور ایک بین الاقوامی میموریل باکسنگ ٹورنامنٹ میں طلائی تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
عالمی چیمپئن بننے کا خواب پورا
سال 2021 میں ایشین باکسنگ چمپئن شپ میں نکھت نے کانسے کا تمغہ جیتا، جس کے بعد ان کے کیریئر کا سنہرا دور شروع ہوا۔ 2022 میں آئی بی اے ویمن ورلڈ باکسنگ چمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بنیں اور طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ اسی سال کامن ویلتھ گیمز میں بھی انہوں نے سونے کا تمغہ جیت کر ہندوستان کا پرچم بلند کیا۔
دو مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز
سال 2023 میں نکہت زرین نے ایک بار پھر عالمی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت کر مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا کارنامہ انجام دیا۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ عظیم ہندوستانی باکسر میری کوم کے بعد عالمی چیمپئن شپ میں دو طلائی تمغے جیتنے والی صرف دوسری ہندوستانی خاتون باکسر بن گئیں۔
اعزازات اور کامیابیاں
نکھت زرین کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں:
2011: جونیئر و یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ
2014: یوتھ ورلڈ چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ
2021: ایشیائی باکسنگ چیمپئن شپ میں کانسے کا تمغہ
2022: عالمی چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ
2022: دولت مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ
2023: مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن
ان کی غیر معمولی کامیابیوں کے اعتراف میں حکومت ہند نے انہیں 2022 میں ارجن ایوارڈ سے بھی نوازا۔ نکہت زرین کی کہانی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو سماجی رکاوٹیں، مالی مشکلات اور جسمانی چوٹیں بھی کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خوابوں کی تعبیر صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشکلات کے سامنے ہار نہیں مانتے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
لکھنؤ ٹیچر انتخابی حلقے میں سشیل کمار پٹیل اور بی جے پی کے امیش دویدی…
کرانتی نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرکے لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ…
گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب فرانس کے کئی علاقوں تک…
رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد…
نیرو ڈھانڈا اور کینن چنائی کی جوڑی نے 34 پوائنٹس کے ساتھ نیا ایشین گیمز…
دھن راج ناتھوانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں گروپ صدر ہیں۔ ان کی پروفائل کے مطابق…