نئی دہلی: نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفیٰ کے بعد حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ نئے نائب صدر کا انتخاب جلد از جلد کیا جائے گا، حالانکہ آئینی ضوابط میں اس کے لیے کوئی مخصوص وقت طے نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی جانب سے صحت وجوہات کی بنیاد پر پیر کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن استعفیٰ دیا گیا، جسے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے قبول کر لیا ہے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد انہیں دہلی کے لٹینز زون میں ایک سرکاری بنگلہ الاٹ کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ان کی سیکورٹی میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور موجودہ پروٹوکول جاری رہے گا۔
آئین کے مطابق نائب صدر کا خالی عہدہ جتنی جلدی ممکن ہو، پُر کیا جانا چاہیے
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق نائب صدر کا خالی عہدہ جتنی جلدی ممکن ہو، پُر کیا جانا چاہیے۔ نائب صدر راجیہ سبھا کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں۔ راجیہ سبھا میں ان کے معاون کے طور پر ایک ڈپٹی چیئرمین اور ایک پینل آف وائس چیئرپرسنز موجود ہیں جو ایوان کی کارروائی سنبھالتے ہیں۔ دھنکھڑ نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اور طبی مشورے کی پابندی کرتے ہوئے، میں نائب صدر کے عہدے سے فی الفور استعفیٰ دیتا ہوں، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 67(a) میں درج ہے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر محترمہ دروپدی مرمو کے ساتھ میرا کام کرنے کا رشتہ خوشگوار اور اعتماد پر مبنی رہا، جس کے لیے میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزراء کونسل کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا تعاون اور رہنمائی میرے لیے بے حد قیمتی رہا، اور میں نے اپنے دور میں بہت کچھ سیکھا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا دھنکھڑ کے استعفیٰ پر حیرانی کا اظہار
راجیہ سبھا میں بی جے پی ایم پی اور وائس چیئرمین پینل کے رکن، گھنشیام تیواری نے منگل کو ایوان میں دھنکھڑ کے استعفیٰ کی اطلاع دی۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے ذریعے بھی استعفیٰ کی تصدیق کی گئی۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے دھنکھڑ کے استعفیٰ پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پیچھے گہرے اسباب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ نائب صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ذریعہ متناسب نمائندگی کے نظام اور خفیہ رائے دہی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگر نائب صدر کی مدت پوری ہو رہی ہو تو انتخاب اس سے قبل مکمل ہو جانا چاہیے۔ لیکن اگر عہدہ اچانک خالی ہو جائے، جیسا کہ اب ہوا ہے، تو انتخاب جلد از جلد کرایا جاتا ہے۔ نیا منتخب نائب صدر اپنے عہدے کی مکمل پانچ سالہ مدت کے لیے اہل ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…