نئی دہلی : دل کی ناکامی (ہارٹ فیلئر) دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرنے والی ایک سنگین بیماری ہے اور یہ اسپتال میں داخل ہونے کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارٹ فیلئر کے تمام مریضوں کے لیے ایک ہی دوا یکساں طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض کی بیماری کی نوعیت کے مطابق علاج کا ضروری ہے۔ہارٹ فیلئر ایسی حالت ہے، جس میں دل جسم کی ضرورت کے مطابق خون پمپ نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں مریض کو سانس لینے میں دشواری، جلد تھکن، ٹانگوں اور ٹخنوں میں سوجن اور روزمرہ کے معمولات انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہارٹ فیلئر کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ایک قسم میں دل کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور مؤثر انداز میں خون پمپ نہیں کر پاتے، جسے ہارٹ فیلئر وِد ریڈیوسڈ ایجیکشن فریکشن (HFrEF) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کے علاج کے لیے کئی برسوں سے مختلف ادویات، خصوصاً بیٹا بلاکرز، کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب تقریباً نصف مریض ہارٹ فیلئر وِد پریزروڈ ایجیکشن فریکشن (HFpEF) کا شکار ہوتے ہیں۔ اس حالت میں دل خون تو معمول کے مطابق پمپ کرتا ہے، لیکن دل کے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں اور مناسب انداز میں پھیل نہیں پاتے، جس کے باعث ہر دھڑکن کے درمیان دل میں مطلوبہ مقدار میں خون نہیں بھر پاتا۔عام طور پر ڈاکٹر کمزور دل والے مریضوں کو بیٹا بلاکرز تجویز کرتے ہیں، کیونکہ یہ دل کی دھڑکن کو سست کر کے اس پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرتی ہیں اور اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو بھی گھٹا سکتی ہیں۔ تاہم یہ سوال موجود تھا کہ آیا یہی دوا سخت دل والے مریضوں کے لیے بھی اتنی ہی مفید ہے یا نہیں۔اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے امریکہ کی یونیورسٹی آف ورمونٹ کے محققین نے ڈاکٹر ٹموتھی پلانٹے کی سربراہی میں ایک تحقیق کی، جو طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن (JAMA Network Open) میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں TOPCAT نامی بڑے کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جسے امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی حمایت حاصل تھی۔ اس تحقیق میں شامل تقریباً 80 فیصد مریض بیٹا بلاکرز استعمال کر رہے تھے۔
تحقیق کے نتائج حیران کن رہے۔ سائنس دانوں نے پایا کہ سخت دل والے ہارٹ فیلئر (HFpEF) کے وہ مریض جو بیٹا بلاکرز لے رہے تھے، ان میں بیماری بگڑنے کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کا خطرہ 74 فیصد زیادہ تھا۔ماہرین نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بیٹا بلاکرز تمام مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں، بلکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جو دوا ایک قسم کے ہارٹ فیلئر میں فائدہ دیتی ہے، ضروری نہیں کہ دوسری قسم میں بھی اتنی ہی مؤثر ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ HFpEF میں دل پہلے ہی مناسب طور پر آرام نہیں کر پاتا، جبکہ بیٹا بلاکرز دل کی رفتار مزید سست کر دیتی ہیں، جس سے بعض مریضوں میں دل کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور جسم میں پانی جمع ہونا، سانس پھولنا اور سوجن جیسی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین نے مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بیٹا بلاکرز کا استعمال ہرگز بند نہ کریں، کیونکہ یہ ادویات ہائی بلڈ پریشر، دل کی بے ترتیب دھڑکن اور ہارٹ اٹیک کے بعد تحفظ سمیت کئی دیگر طبی وجوہات کے لیے بھی تجویز کی جاتی ہیں۔ نئی تحقیق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ HFpEF کے مریضوں کے لیے مزید مؤثر اور مخصوص علاج دریافت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…