مرکزی حکومت نے آج سے چار نئے لیبر کوڈز نافذ کر دیے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی تنخواہ سے متعلق ہے۔ اب ہر ملازم کی بنیادی تنخواہ اس کے کل CTC کا کم از کم 50 فیصد ہونا ضروری ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں آنے والی تنخواہ پہلے کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے، کیونکہ گریجویٹی اور پی ایف جیسے اجزا میں اضافہ ہوگا۔
سوشل سکیورٹی کوڈ
نئے قوانین میں سوشل سکیورٹی کوڈ بھی شامل ہے۔ تاہم اس میں غیر منظم شعبے (Unorganised Sector) کے زیادہ تر کارکن شامل نہیں ہوں گے۔ یعنی بھارتی ورک فورس کی ایک بڑی تعداد ان سہولیات سے باہر رہے گی۔
انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ
اس تبدیلی کے تحت اب 300 تک ملازمین والی کمپنیوں کو چھانٹی (Layoff) کے لیے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ پہلے یہ حد 100 ملازمین تک تھی۔ اس سے کمپنیوں کے لیے ملازمین کی چھانٹی آسان ہو جائے گی۔
آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ کوڈ
کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات کو اب فوجداری مقدمے کے بجائے مالی معاوضے کے ذریعے نمٹایا جا سکے گا۔ یعنی کمپنیاں رقم ادا کرکے معاملہ طے کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی صحت اور کام کے ماحول سے متعلق نئے قوانین بھی نافذ ہو گئے ہیں۔
نوٹیفائی کیے گئے نئے قواعد
مرکز نے ان چار کوڈز کے تحت نئے قواعد بھی نافذ کیے ہیں:
کوڈ آن ویجز (سینٹرل) رولز، 2026
سوشل سکیورٹی (سینٹرل) رولز، 2026
انڈسٹریل ریلیشنز (سینٹرل) رولز، 2026
آکوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز (سینٹرل) رولز، 2026
ان تبدیلیوں کا براہِ راست اثر ملازمین اور کمپنیوں دونوں پر پڑے گا۔ جہاں ملازمین کی ٹیک ہوم سیلری کم ہو سکتی ہے، وہیں کمپنیوں کو چھانٹی اور ورکنگ کنڈیشنز سے متعلق معاملات میں زیادہ لچک ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ڈاکٹر کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں امیتابھ بچن، اتوار کو ممبئی میں اپنے…
تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر پورے سال میں کاروبار کے لحاظ…
دہلی میں دریائے جمنا کی صفائی سے متعلق بی جے پی حکومت کے دعوؤں پر…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 کے بعد سے نہیں ہوئے ہیں۔…
سی این این کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ رواں سال…
سیمینار کی خاص کشش ’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک کی پیش کش رہی، جسے پرتدھونی تھیٹر سوسائٹی…