نیوزی لینڈ کی وزیرِ امیگریشن ایریکا اسٹینفورڈ نے حال ہی میں ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ہندوستانیوں کی طرف سے موصول ہونے والی ای میلز کا جواب نہیں دیتیں، کیونکہ وہ انہیں اسپام کے مترادف سمجھتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ بڑی تعداد میں غیر متعلقہ ای میلز موصول کرتی ہیں، جن میں سے کئی ہندوستانی شہریوں کی طرف سے امیگریشن کے بارے میں مشورے مانگنے والی ہوتی ہیں۔ اسٹینفورڈ نے کہا کہ انہوں نے آفیشل انفارمیشن ایکٹ کی تعمیل کی ہے اور تمام ضروری ای میلز کو اپنے پارلیمانی ای میل ایڈریس پر فارورڈ کیا ہے، لیکن غیر متعلقہ ای میلز کو نظر انداز کرتی ہیں۔
اس بیان نے ہندوستانی کمیونٹی اور نیوزی لینڈ کی پہلی ہندوستانی نژاد رکن پارلیمنٹ پریانکا رادھا کرشنن کی طرف سے شدید تنقید کو جنم دیاہے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ کسی ایک نسل کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اس طرح کے تبصرے ایک پوری کمیونٹی کے خلاف منفی تعصب کو تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے اسٹینفورڈ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستانیوں کے خلاف تعصب کو بڑھاوا دیتا ہے۔
ایریکا اسٹینفورڈ نے اپنے دفاع میں کہا کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہندوستانیوں کی ای میلز خود بخود اسپام ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ غیر متعلقہ ای میلز کو اسپام کی طرح سمجھتی ہیں۔ تاہم، ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تنازع کا باعث بناہوا ہے، جہاں کئی صارفین نے اسے ہندوستانیوں کے خلاف تعصب کے طور پر دیکھا، جبکہ کچھ نے اسے درست قرار دیا کہ غیر متعلقہ ای میلز کا جواب دینا ان کے فرائض کا حصہ نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ کا بڑا فیصلہ، گندم، جو، چنا…
منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) کے پلانٹ میں بدھ کو دھماکے…
سوربھ راجپوت کے قتل کے معاملے میں ضلع جج اروند کمار شرما کی عدالت کا…
اس کامیابی نے ایشین گیمز میں خواتین ہاکی کا دوسرا طلائی تمغہ جیتنے کے ہندوستان…
مرکزی وزارتِ جل شکتی نے ملک کی پہلی ’اسپرنگ سینسس‘ رپورٹ جاری کردی، تقریباً 20…
جالندھر میں ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے اختتامی پروگرام سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ…