نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک کے جواب کے دوران کہا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی نے ہمیشہ ملک کی آبادی کو ایک مسئلہ سمجھا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی عوام کو طاقت اور حل کا ذریعہ مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کے نظریات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بی جے پی کے لیے ہر شہری ملک کی تعمیر کا ستون ہے، جبکہ کانگریس نے ہمیشہ عوام کو بوجھ کے طور پر دیکھا۔
’’35 کروڑ لوگ، 35 کروڑ مسئلے‘‘
وزیراعظم نے اندرا گاندھی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کے دورے کے دوران بتایا تھا کہ جب کسی نے نہرو جی سے پوچھا کہ ملک میں کتنے مسئلے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: 35 کروڑ، کیونکہ اس وقت بھارت کی آبادی 35 کروڑ تھی۔ انہوں نے کہا: ’’اندرا جی نے یہ بھی کہا کہ اب ملک کی آبادی 57 کروڑ ہے تو میرے مسئلے بھی اتنے ہی ہیں۔ کیا کوئی ملک کے عوام کو اس نظر سے دیکھ سکتا ہے؟‘‘ مودی نے کہا کہ یہی کانگریس اور بی جے پی کے نظریے کا بنیادی فرق ہے۔ ’’کانگریس عوام کو مسئلہ سمجھتی ہے، جبکہ ہم مانتے ہیں کہ 140 کروڑ ہندوستانی 140 کروڑ حل ہیں۔ ہمارے لیے ہر شہری مستقبل کی بنیاد ہے۔‘‘ وزیراعظم نے آسام میں واقع بوگی بیل پل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سالہا سال کانگریس حکومتوں کے دور میں التوا کا شکار رہا، لیکن بی جے پی حکومت نے اسے مکمل کر کے پورے شمال مشرقی خطے کو فائدہ پہنچایا۔
’’روز دو کلو گالیاں کھاتا ہوں‘‘
وزیراعظم نے اپوزیشن کے مسلسل حملوں پر طنزیہ انداز میں کہا: ’’مجھ سے کسی نے میری اچھی صحت کا راز پوچھا، تو میں نے کہا: میں روز دو کلو گالیاں کھاتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے کانگریس انہیں گالیاں دے رہی ہے، مگر اس سے ان کی قوت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے نعروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’مودی تیری قبر کھدے گی جیسے نعرے اپوزیشن کے دل میں بھری نفرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لوگ ’محبت کی دکان‘ کی بات کرتے ہیں مگر دل میں نفرت رکھتے ہیں۔‘‘
’’میرا ریموٹ کنٹرول 140 کروڑ عوام ہیں‘‘
وزیراعظم نے کہا کہ کانگریس کا ریموٹ کنٹرول کہیں اور ہے، جبکہ ان کا ریموٹ کنٹرول 140 کروڑ ہندوستانی ہیں۔ ’’میرے لیے اقتدار خدمت کا ذریعہ ہے، نہ کہ طاقت کا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی کامیابیوں کی وجہ سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اسی لیے گالیوں اور نعروں کا سہارا لے رہی ہے۔ لوک سبھا میں پیش آئے حالیہ واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا: ’’کانگریس نے صدر کے عہدے، قبائلی سماج اور آئین کی توہین کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ اور ملک کی عزت پر حملہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے روی نیت بٹو کو ‘غدار’ کہا کیونکہ وہ سکھ ہیں، جو کانگریس کی سکھ مخالف سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھی گئی، جس کے باعث کئی بار کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کے تمغوں کی تعداد 30 ہوگئی، 4 گولڈ، 12…
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…