قومی

Neha Bora released from R.K. Puram Police Station :رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا بورا کا پہلا بیان، پولیس کی کارروائی اور قانون و انتظام پر اٹھائے سوال

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی قومی صدر نیہا بورا کو دہلی پولیس نے حراست سے رہا کر دیا ہے۔ انہیں 16 اکتوبر کی شام احتیاطی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت رسمی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد نیہا بورا نے پولیس کی کارروائی، مظاہرین کو حراست میں رکھنے اور عام شہریوں کے حقوق کے حوالے سے حکومت پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے ابھجیت دیپکے سمیت حراست میں لیے گئے دیگر مظاہرین کو بھی رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔نیہا بورا نے حراست میں لیے جانے کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کی حکومت قانونی اور غیر قانونی کی حدود کو بہت پہلے ہی پار کر چکی ہے۔ اس احتجاج کے دوران طویل عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ لوگوں کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے حراست میں لے لیا جاتا ہے اور گھنٹوں بٹھا کر رکھا جاتا ہے۔ اب یہ صورت حال مزید واضح ہو گئی ہے، کیونکہ اس تحریک کے دوران ہر روز ایسا ہو رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مظاہرین کو پکڑ کر حراست میں لیا جاتا ہے اور اگلی صبح یا پھر اگلی شام چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کی مبینہ غیر قانونی حراستیں کیوں ہو رہی ہیں؟ ان کا کیا مطلب ہے اور عام شہریوں کے ذہنوں میں خوف پھیلانے کے لیے ان کا استعمال کیسے کیا جا رہا ہے؟ اس کی ایک مثال آج ہم نے دیکھی، جسے میں نے خود بھی محسوس کیا۔‘‘

گیانیش کمار اور بی جے پی پر بھی تنقید

نیہا بورا نے اپنے بیان میں گیانیش کمار اور بی جے پی سے تکبر چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پوری طرح ان کی حمایت میں ہیں۔ جتنے بھی تاجر ہیں، ان کے کاروبار پر اس کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ہم چاہیں گے کہ گیانیش کمار اور بی جے پی اپنا تکبر چھوڑیں اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے استعفیٰ دلوائیں، تاکہ تاجروں کو نقصان نہ ہو۔‘‘انہوں نے کہا کہ مظاہرین عام شہری ہیں، جو جواب دہی اور اپنے حق رائے دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حراست میں لے کر پوری رات تھانے میں رکھنے کا کیا مطلب ہے؟

قانون و انتظام اور رات بھر حراست میں رکھنے پر سوالات

نیہا بورا نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’قانون و انتظام کی ہر ممکن طریقے سے دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ عام شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے، گویا وہ کوئی خطرناک مجرم ہوں۔ ملک میں طویل عرصے سے ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ موجودہ تحریک نے اس صورت حال کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو دن یا شام کے وقت حراست میں لیا جاتا ہے، پوری رات حراست میں رکھا جاتا ہے اور پھر اگلی صبح یا شام کو رہا کر دیا جاتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’آخر کس اختیار کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے؟ کس قانون یا حکم کے تحت حراست میں لیے گئے لوگوں کو پوری رات تھانے میں رکھا جا سکتا ہے؟ قانونی طور پر، خاص طور پر خواتین کو، غروب آفتاب کے بعد رہا کر دیا جانا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے۔‘‘

ابھجیت دیپکے کی حراست پر تشویش کا اظہار

نیہا بورا نے ابھجیت دیپکے کی حراست پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’ابھجیت کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے کہ انہیں کہاں حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے بارے میں اب تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ابھجیت بھی حراست میں ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم یہ بھی چاہیں گے کہ ابھجیت کو رہا کیا جائے۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس لیے ان کی رہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، جن دیگر مظاہرین کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے، انہیں بھی رہا کیا جانا چاہیے۔‘‘

نیہا بورا نے کہا کہ وہ ابھجیت کی حمایت کرتی ہیں اور ان کی رہائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے دیگر مظاہرین کو بھی رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔نیہا بورا کی رہائی کے بعد ابھجیت دیپکے سمیت دیگر مظاہرین کی حراست اور ان کی رہائی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ نیہا بورا نے حکومت سے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر روک لگانے اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو
Abu Danish Rehman

Recent Posts

”People want“ regime change: عوام اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں، کپل سبل کا راج ناتھ سنگھ کو دیا جواب

 وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 16 اکتوبر 2026 کو لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس…

38 minutes ago

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

10 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

11 hours ago