نئی دہلی: نیٹ-یو جی (نیٹ-یوجی) پیپرلیک معاملے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کولے کراپوزیشن نے مسلسل پانچویں دن بھی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کیا، جس کے باعث لوک سبھا اورراجیہ سبھا کی کارروائی پیرتک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ اپوزیشن ارکان حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرتے رہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پرایوان میں بحث کرانے کے لئے تیارہے۔ تاہم اپوزیشن کا موقف ہے کہ پہلے وزیرتعلیم کا استعفیٰ، وزیراعظم کی معافی اورطلبا پرمبینہ تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، اس کے بعد ہی بحث ممکن ہے۔
مرکزی وزیرکے پارلیمانی امورکرن رجیجونے ایوان میں کہا کہ حکومت نے کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے کئی باررابطہ کیا ہے تاکہ نیٹ پیپرلیک معاملے پرپارلیمنٹ میں بحث ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگراس اہم مسئلے پربحث نہیں ہوگی توملک میں غلط پیغام جائے گا۔ کرن رجیجونے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی پہلے ہی عوام کویقین دلا چکے ہیں کہ پیپرلیک جیسے معاملات سے نمٹنے کے لئے سخت قانون بنایا جائے گا اورایسے مقدمات کی فوری سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ اس لیے اپوزیشن کوپہلے سے شرائط عائد نہیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے کانگریس کے رکن کے سی وینوگوپال سے بھی بارباراپیل کی کہ نیٹ معاملے پربحث ہونے دی جائے۔
اپوزیشن اپنے مطالبات پرمضبوطی سے قائم
ان کا کہنا تھا کہ جب تمام فریق اس بات پرمتفق ہیں کہ اس معاملے پربحث ضروری ہے، تواسے روکنا مناسب نہیں ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن اپنے مطالبات پرقائم رہی اورایوان میں”استعفیٰ دو” کے نعرے لگائے، جس کے بعد کارروائی دن بھرکے لئے ملتوی کردی گئی۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ، وزیراعظم کی طلبا سے معافی اورطلبا پرمبینہ تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے پہلے کسی بھی قسم کی بحث نہیں ہوگی۔
راہل گاندھی نے مائیک بند کرنے کا لگایا الزام
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجونے کانگریس سے بحث شروع کرنے کی اپیل کی، لیکن جب وہ جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے توانہیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی اوران کا مائیک بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ان کے مطابق طلبا کی تین بنیادی مطالبات ہیں: پہلا، وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کوعہدہ چھوڑنا ہوگا، دوسرا مطالبہ طلبا پرلاٹھی چارج یا تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اورتیسرا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم طلبہ سے معافی مانگیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ جب تک یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے، اپوزیشن نہ کسی بات چیت میں حصہ لے گی اورنہ ہی نیٹ پیپرلیک معاملے پر پارلیمنٹ میں کسی بحث کا حصہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی معاملے پراپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے گزشتہ پانچ دنوں سے پارلیمنٹ کی کارروائی باربارمتاثرہورہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…