قومی

NDA announces candidate for VP: مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھاکرشنن بنے این ڈی اے کی جانب سے نائب صدر کے امیدوار، بی جے پی صدر جے پی نڈا کا اعلان، جانئے کون ہیں سی پی رادھاکرشنن؟

بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج تمام قیاس آرائیوں پر بریک لگاتے ہوئے این ڈی اے کے نائب صدر کے امیدوار کا اعلان کردیا۔ بہت سے نام اس اعلیٰ عہدے کی دوڑ میں تھے لیکن مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھاکرشنن کے نام پر مہر لگی اور انہیں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی جانب سے نائب صدر کے انتخاب کے لیے امیدوار نامزد کردیا گیا۔ یہ اعلان بی جے پی صدر جے پی نڈا نے وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں منعقدہ پارلیمانی بورڈ کی اہم میٹنگ کے بعد کیا، جس میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور متفقہ طور پر رادھاکرشنن کے نام پر رضامندی ظاہر کی۔

سی پی رادھاکرشنن کا تعارف اور سیاسی سفر

سی پی رادھاکرشنن کا پورا نام چندراپورم پونّوسوامی رادھاکرشنن ہے۔ وہ 20 اکتوبر 1957 کو تروپور، تمل ناڈو میں پیدا ہوئے۔ طویل سیاسی سفر میں انہوں نے مختلف سطحوں پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ 18 فروری 2023 کو انہیں جھارکھنڈ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں وہ 30 جولائی 2024 تک اس عہدے پر برقرار رہے۔ بعد میں مارچ سے جولائی 2024 تک انہوں نے تلنگانہ کے گورنر کے طور پر اضافی چارج سنبھالا، جبکہ مارچ سے اگست 2024 تک وہ پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر بھی رہے۔ 31 جولائی 2024 کو انہیں مہاراشٹر کا گورنر مقرر کیا گیا اور اس وقت وہ اسی عہدے پر فائز ہیں۔

این ڈی اے کی مکمل حمایت

نامزدگی کے اعلان کے فوراً بعد این ڈی اے کے کئی رہنماؤں نے کھل کر حمایت کی۔ مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے ایکس پر لکھا، ’’ہم نائب صدر کے عہدے کے لیے این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھاکرشنن کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہم سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک این ڈی اے کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں نے امیدوار کے نام پر کوئی اختلاف نہیں دکھایا اور یکجہتی کے ساتھ رادھاکرشنن کے حق میں فیصلہ کیا۔

سابق نائب صدر کا استعفیٰ اور خالی عہدہ

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے 21 جولائی کو اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے استعفے کی وجہ خراب صحت کو قرار دیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اختلافات کی چہ میگوئیاں بھی جاری ہیں۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر کا انتخاب 9 ستمبر کو کرائے جانے کا اعلان کیا گیا۔

انتخابی تیاری اور اپوزیشن کی حکمت عملی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے رادھاکرشنن کی کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک بھی اپنے امیدوار کے نام پر غور کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے 18 اگست کو میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی این ڈی اے نے کاغذات نامزدگی کے عمل کو طاقت کے مظاہرے میں بدلنے کے لیے اپنے تمام وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ کو 21 اگست کو دہلی طلب کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave:  مرکزی وزیر کرن رجیجو کی موجودگی میں بھارت ایکسپریس اردو   کانکلیوآغاز

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں بھارت ایکسپریس اردو کے…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave LIVE: ’بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، آئی آئی سی میں ملک کے بڑے دانشور جمع

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو کا نئی دہلی میں آغاز، سی ایم ڈی…

2 hours ago

Mohan Bhagwat IILM Speech: ’آج کی نسل زیادہ ایماندار ہے‘، موہن بھاگوت نے بتایا، انسانیت پر مبنی تعلیم کیوں ضروری؟

آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…

2 hours ago

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

14 hours ago