قومی

NCERT new modules blame Congress for partition: این سی ای آر ٹی نے نئے ماڈیولز میں کانگریس پر لگایا تقسیم ہند کا الزام – جناح کو کمزور سمجھنے کی غلطی اور ہولناک نتائج کا بھی اعتراف

این سی ای آر ٹی نے اگست میں تقسیم ہند کی یاد میں دو نئے ماڈیول جاری کیے ہیں، ایک مڈل سطح کے طلبہ کے لیے اور دوسرا سیکنڈری سطح کے لیے۔ ان میں کہا گیا ہے کہ کانگریس قیادت نے تقسیم کے منصوبے قبول کیے، جناح کو کمزور سمجھا اور مستقبل نتائج کا اندازہ نہیں لگایا۔

تین مرکزی کردار

ماڈیولز میں واضح کیا گیا کہ تقسیم ہند کے پیچھے تین کردار تھے: جناح، جنہوں نے مطالبہ کیا۔ کانگریس، جس نے اسے قبول کیا۔ ماؤنٹ بیٹن، جنہوں نے اسے عملی جامہ پہنایا۔

قیادت کی ناتجربہ کاری

سیکنڈری ماڈیول میں کہا گیا کہ کسی بھی ہندوستانی لیڈر کو قومی یا صوبائی سطح پر انتظامیہ، فوج یا پولیس چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ اسی ناتجربہ کاری کی وجہ سے مسائل کو اچھی طرح سمجھا نہیں جاسکا اور جلدبازی میں فیصلے کیے گئے۔

انسانی المیہ

تقسیم کو دنیا کی تاریخ کا بدترین انسانی سانحہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں لاکھوں لوگ مارے گئے، 1.5 کروڑ افراد نے نقل مکانی کی، بڑے پیمانے پر جنسی تشدد اور ریل گاڑیوں میں صرف لاشوں کے پہنچنے کے واقعات درج ہیں۔

ہولناک واقعات کی مثالیں

ماڈیول میں کہا گیا کہ تقسیم سے قبل ہی بعض واقعات نے بھیانک شکل اختیار کر لی تھی۔ 1946 کے نوکھالی اور کلکتہ کے فسادات اور مارچ 1947 میں راولپنڈی، ٹوہا اور بیول کے خونریز واقعات کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔

ڈائریکٹ ایکشن ڈے کا ذکر

مسلم لیگ کے 1946 کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے اور اس کے ساتھ جڑے تشدد کو فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا ہے۔ جناح کے الفاظ ’’یا تقسیم ہندوستان یا تباہ ہندوستان‘‘ کو بطور دباؤ پیش کیا گیا، جس کے آگے نہرو اور پٹیل جھک گئے۔

تقسیم کے طویل مدتی اثرات

ماڈیول میں کہا گیا ہے کہ تقسیم نے کشمیر تنازعہ، فرقہ وارانہ سیاست اور بھارت کی خارجہ پالیسی پر بیرونی دباؤ جیسے چیلنجز کو جنم دیا۔ اس میں درج ہے کہ پاکستان نے کشمیر حاصل کرنے کے لیے تین جنگیں لڑی اور ناکامی کے بعد دہشت گردی کو پالیسی بنا لیا۔

جناح کا اعتراف

ماڈیول کے مطابق جناح نے خود بعد میں کہا: ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ہوگا، میں نے اپنی زندگی میں ایسا پاکستان دیکھنے کی توقع نہیں کی تھی۔‘‘ چھوٹے طلبہ کے لیے آسان زبان میں اسی بات دہرایا گیا ہے جس میں تقسیم ہند کی ذمہ داری جناح کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن پر عائد کی گئی ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے فیصلے میں جلد بازی بھی کی۔

سبق اور وارننگ

ماڈیول کا اختتام ایک وارننگ پر کیا گیا ہے کہ حکمرانوں کی کوتاہ بینی قومی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ تشدد کو رعایت دینے سے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تقسیم کی ہولناکیوں کو یاد رکھا جائے تاکہ ملک فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرے اور قیادت ذاتی یا جماعتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

6 minutes ago

TMC Symbol Freez Case: ٹی ایم سی نام اور انتخابی نشان تنازع: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، کتنے وقت میں ہوگا فیصلہ؟

ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…

30 minutes ago

Greater Noida Bus Fire: گریٹر نوئیڈا بس حادثہ: امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے کیا اظہارِ افسوس

یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…

1 hour ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، وزیر اعظم نریندر مودی نے روشیبینا دیوی، ستنم سنگھ اور سلمان خان کو دی مبارکباد

ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…

2 hours ago

Adani Group Plans: دو ہزار بستروں والے غیر منافع بخش اسپتال کے سنگِ بنیاد پر گوتم اڈانی کا بڑا اعلان، ’یہ بنگال کے طبی مستقبل کو بہتر بنائے گا‘

’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…

2 hours ago

PHDCCI Seminar: نئے لیبر کوڈز سے آسان ہوگی تعمیل، روزگار اور سماجی تحفظ کے مواقع بڑھیں گے: لیبر سکریٹری

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…

2 hours ago