جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ۔ (فائل فوٹو)
جموں و کشمیرمیں برسراقتدارنیشنل کانفرنس کے سامنے اب اپنے ہی لیڈران کی ناراضگی ایک نئی چیلنج کے طورپرسامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی جانب سے کابینہ میں توسیع کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندرعدم اطمینان کی خبریں تیزہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 15 سے زائد اراکین اسمبلی نے الگ میٹنگ کی، جس سے عمرعبداللہ حکومت کی مشکلات بڑھنے کے امکانات ظاہرکیے جا رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے سری نگرسے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ بھی پارٹی کی بعض پالیسیوں سے ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ ریزرویشن اوردیگرکئی معاملات میں پارٹی کے مؤقف میں تبدیلی سے ناخوش ہیں اور3 نومبرکوپارٹی سے متعلق کوئی بڑا اعلان کرسکتے ہیں۔
15 سے زائد اراکین اسمبلی کی الگ میٹنگ
خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے خلاف بیان نہیں دے رہا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی ناراضگی عمر عبداللہ حکومت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں اراکین اسمبلی نے کابینہ کی ’’غیرمنصفانہ توسیع‘‘ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تیارکرنے پرغورکیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ناراض اراکین ان چاروزراء کوتبدیل کرنے کے مطالبے پرمتفق ہوئے، جنہوں نے 16 اکتوبر 2024 کوعمرعبداللہ کی قیادت میں حکومت بننے کے وقت حلف لیا تھا۔ ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ ان وزراء نے اپنے عہدوں پردوسال مکمل کرلیے ہیں اوراب ان کی جگہ نئے چہروں کوموقع دیا جانا چاہیے۔
27 اکتوبر کو ہوئی تھی کابینہ کی توسیع
جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے 27 اکتوبرکو لوک بھون میں علی محمد ساگر، میرسیف اللہ، شمیما فردوس اورالطاف احمد وانی، المعروف الطاف کالو، کوعہدے اوررازداری کا حلف دلایا تھا۔ اس کابینہ توسیع کے دو آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو بھی وزارت سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ سمیت وزراء کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی، جو موجودہ قانونی ضابطوں کے تحت زیادہ سے زیادہ تعداد ہے۔ اس تبدیلی کے بعد نیشنل کانفرنس کے کئی سینئراراکین اسمبلی میں مایوسی پھیل گئی، جنہیں توسیع شدہ کابینہ میں جگہ نہیں مل سکی۔
حلف برداری تقریب کے بائیکاٹ کی بھی خبریں
کابینہ کی توسیع کے خلاف ناراضگی 27 اکتوبرکوہونے والی حلف برداری تقریب کے دوران بھی نظرآئی۔ اطلاعات کے مطابق حکمران اتحاد کی حمایت کرنے والے 11 اراکین اسمبلی نے تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا، جن میں زیادہ تر نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے تھے۔ جمعہ کوہونے والی الگ میٹنگ کے بعد حکمران جماعت کے اندراختلافات اورناراضگی کی شدت کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی، جو حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوئے تھے، پہلے سے طے شدہ مصروفیات کی وجہ سے اس میٹنگ میں بھی شامل نہیں ہوسکے۔
پارٹی قیادت نے بغاوت کی خبروں کو مسترد کیا
اکتوبر 2024 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ کابینہ کا پہلا بڑا ردوبدل تھا۔ چارنئے وزراء کوشامل کرنے اورستیش شرما کو وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد وزراء کی کونسل اپنی مقررہ زیادہ سے زیادہ تعداد تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ پیش رفت نے وزراء کی نمائندگی، سینئرٹی اورحکومت کی ساخت کو لے کرپارٹی کے اندرموجود اختلافات کوایک بارپھرنمایاں کردیا ہے۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی سلمان ساگرنے اراکین اسمبلی کی بغاوت کی خبروں کویکسرمسترد کردیا ہے۔ پارٹی کی سری نگریونٹ کے صدرشوکت میرنے بھی کہا کہ بند کمرے میں ہونے والی یہ میٹنگ پارٹی سے الگ ہونے کے لیے نہیں تھی بلکہ پارٹی کومزید مضبوط بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
فلم ساز سنجے گپتا کے اچانک انتقال کی خبر سے بالی ووڈ میں غم کی…
جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…
آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…
کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…
اڈانی یونیورسٹی نے 2026 کے بیچ کی تیسری تقریبِ تقسیمِ اسناد میں 374 طلبہ کو…
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام…