نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں غیر اور دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازشیں کر رہے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں۔ مسلمان اس ملک میں کسی کے رحم و کرم اور کسی فرقہ پرست ٹولے کے احسان کے نتیجے میں نہیں رہ رہے ہیں، بلکہ اس ملک کی آزادی میں ان کے اسلاف کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔ ان کی قبریں اس سرزمین کے سینے پر آج بھی اس تاریخی حقیقت کی گواہ ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم نے اس ملک کو آزاد کرانے کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کیا ہے، اس لیے ہمیں اپنے ہی وطن میں اجنبی یا دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
مولانا مدنی آج جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے، جو 30 اور 31 اکتوبرکوڈی ایل ڈی اسپرنگ فیلڈ، پیپا کا، نوح، میوات، ہریانہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت حال، اسلاموفوبیا، یوسی سی ، وقف املاک، عالم اسلام وفلسطین اور جمعیۃ کے تنظیمی و تعمیری پروگراموں وغیرہ پرتفصیلی غوروخوض کے بعد اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ اس اجلاس میںمہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی ، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، صدرمجلس قائمہ جمعیۃعلماء ہند مولانا رحمت اللہ میرکشمیری، نائب امیر الہند مولانا محمد سلمان منصورپوری سمیت کئی اہم شخصیات کا خطاب ہوا۔ ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی ، سکریٹری پورٹ اور کلمات تشکر بھی پیش کئے۔ اس موقع پر ایک اعلامیہ بھی پیش ہواجس میں واضح طور پر کہا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ قومی اتحاد اور باہمی احترام کی علم بردار رہی ہے۔ وہ ہر طرح کی فرقہ پرستی کو ملک کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے اور اسے مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنا نہ کل قابلِ قبول تھا، نہ آج ہے اور نہ آئندہ ہوگا ۔ جمعیۃ ملک کے ہر مظلوم، محروم اور کمزور طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور کسانوں، طلبہ، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد کرتی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہماری نئی نسل مایوسی اور خوف کے بجائے شجاعت، حوصلے اور ثابت قدمی کی وارث بنے۔ وہ حکمت و جرأت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کرے اور حق و انصاف کے لیے ہمیشہ ڈٹی رہے۔
ملک آئینی اور نظریاتی بحران سے گزر رہا ہے: مولانا محمود مدنی
مولانا محمود مدنی نےکہا کہ آج ملک ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جب اس کی جمہوری روح اور آئینی اقدار کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نفرت اور تفریق کی فضا صرف مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے دستوری حقوق ہی کو نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ دلتوں، محروم طبقات اور قانون کی حکمرانی کے پورے نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے کہ کیا بھارت میں مسلمان ہونا جرم بنا دیا گیا ہے؟ نفرت انگیز بیان بازی کو اب محض انتخابی سیاست کا وقتی حربہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ ملک کو ایک ایسی نظریاتی کشمکش کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس کی بنیاد مذہبی تفریق پر ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایک مخصوص طبقے کے خلاف ظلم اور ناانصافی کو بعض حلقوں میں قومی فخر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران نفرت انگیز تقریروں اور بیانات کے 1600 سے زائد مصدقہ واقعات اور ان میں سے 87 فیصد معاملات میں ایف آئی آر درج نہ ہونے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اور انصاف کی فراہمی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
بلڈوزرکارروائی آئین، قانون اورعدلیہ کے وقارپرحملہ: جمعہ علماء ہند
نام نہاد بلڈوزرجسٹس پرسخت تنقید کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ انتظامیہ عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہوئے خود ہی جج اور خود ہی جلاد بننے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈوزر کسی اینٹ گارے کی عمارت پرنہیں چلتا، وہ ملک کے کانسٹی ٹیوشن، رول آف لا اور عدالتی وقار کے سینے پر چلتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی شہری کے گھر یا جائیداد کو عدالتی عمل اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرکے منہدم کرنا صرف ایک عمارت کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ آئین اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنا ہے۔
اکثریت کو کوئی خطرہ نہیں، کرسی اوراقتدار کی ہوس ہے: مولانا محمود مدنی
مولانا مدنی نے اکثریت کو خطرے میں بتانے والے بیانیے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ملک غلام تھا، اس وقت اکثریت کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا، لیکن جب ملک آزاد ہوا اور سیکولر آئین نافذ ہوا تو اچانک اکثریت کے خطرے میں ہونے کا پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ حقیقت میں یہ اکثریت کا خطرہ نہیں بلکہ کرسی اور اقتدار کی ہوس ہے۔ جب حکومت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے، کسانوں کے مسائل حل کرنے اور معیشت کو بہتر بنانے میں ناکام ہوتی ہے تو عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے دراندازی، گھس پیٹھیے اور آبادی جہاد جیسے بیانیے گھڑے جاتے ہیں۔
انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ جسٹس اینڈ امپاورمنٹ فار مائناریٹیز (JEM) کی تیار شدہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ میں تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ حکومت کے پاس غیر قانونی دراندازی سے متعلق کوئی مستند ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کے خلاف آبادیاتی خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ صاف کردینا چاہتا ہوں کہ ہم کسی بھی غیر ملکی کے ہندستان میں رہنے کے حامی نہیں ہیں۔
شکایتیں چھوڑکر میدانِ عمل میں اترنے کی اپیل
مولانا محمود مدنی نے جمعیۃ کے ذمہ داران اور کارکنان کو عملی جدوجہد کا پیغام دیتے ہوئے کہا- ’’رونا دھونا اور شکوے شکایتیں بند کریں! مردِ میدان بن کر کھڑے ہو جائیں!‘‘انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں حالات کا شکوہ نہیں کرتیں بلکہ اپنے عزم اور عمل سے تاریخ کا رخ بدلتی ہیں۔ ہمیں مایوسی، خوف اور بزدلی سے نکل کر بہادری، شجاعت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اکابر نے بار بار یہ سبق دیا کہ دین کی سربلندی محض نعروں، تقریروں اور دعووں سے نہیں بلکہ اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالنے سے حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے حضرت شیخ الاسلام کے اس بنیادی پیغام کو یاد دلایا کہ اسلام کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والوں کو پہلے اپنے اندر اسلام کو سمو لینا چاہیے۔ عمل سے گریز اور زبان سے بڑے بڑے دعوے کرنا درست طرزِ عمل نہیں ہے۔ انہوں نے تنظیمی اختلافات کے حوالے سے کہا کہ اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے، اسے مخالفت سمجھ لینا قیادت کی کمزوری ہے۔ ہر شخص کی رائے اور تجربہ یکساں نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اختلاف کرنے والوں کی بات سننے، ان کے دلائل پر غور کرنے اور درست بات قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
مجلسِ منتظمہ کی آج منظورشدہ تجاویز
مجلسِ منتظمہ نے آج ملک اور ملت کو درپیش اہم مسائل پر تفصیلی غور کے بعد متعدد تجاویز منظور کیں۔ مجلسِ منتظمہ نے ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، اسلاموفوبیا، ماب لنچنگ اور سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کی منظم مہم پر گہری تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے تحسین پونا والا مقدمے میں دی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ہر ضلع میں ایس پی سطح کے نوڈل افسران مقرر کیے جائیں، نفرت پر مبنی جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم ہوں ۔مجلسِ منتظمہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی کمیٹی کی غیر سائنسی ساخت اور متعصبانہ مفروضوں پر تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ اگر حکومت آبادی کا حقیقی مطالعہ چاہتی ہے تو بین الاقوامی معیار کے ماہرین پر مشتمل غیر جانب دار کمیشن تشکیل دے۔ مجلسِ منتظمہ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025ء کو اپنی موجودہ شکل میں مسلم اقلیت کے مذہبی و دستوری حقوق اور وقف کی بنیادی روح کے منافی قرار دیا اور حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔اجلاس نے وقف املاک کے تحفظ و انتظام کے لیے شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) کے طرز پر ایک خود مختار اور بااختیار ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ مجلسِ منتظمہ نے عالم اسلام کے متعدد ممالک میں جاری جنگی صورت حال اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے پر گہری تشویش ظاہر کی ۔ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام، اسرائیلی آبادکاری روکنے، جنگی جرائم کے ذمہ داروں کو سزا دینے، مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کے تحفظ اور غزہ و دیگر فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ مجلسِ منتظمہ نے نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، ایمان و عقیدے کے تحفظ اور اسلامی شناخت کے استحکام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مجلسِ منتظمہ نے مرکزی، صوبائی، ضلعی، شہری اور مقامی اکائیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی دستوری ذمہ داریوں کے مطابق سالانہ منصوبۂ عمل مرتب کریں اور اس پر باقاعدگی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اجلاس مجلس منتظمہ کی دونوں نشستوں میں سوال وجواب کی مجالس منعقد ہوئیں جن میں جواب دینے والوں میں صبح کی مجلس میں صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی، مولانا مفتی افتخار قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی نے متعدد سوالوں کے جواب دیے ، جب کہ رات کی نشست میں مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند، مولانا محمد حکیم الدین قا سمی ناظم عمومی جمعیۃ علما ء ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند اور پروفیسر نعمان شاہ جہاں پوری نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی نےسوالوں کا جواب دیا۔
مولانا ابوالقاسم نعمانی نے جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ پر ڈالی روشنی
قبل ازیں اپنے ا ہم خطاب میں مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے کاموں کا دائرہ بہت وسیع ہوا ہے، جس کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ امت کی تاریخ میں بڑے علمی، دینی اور ملی کارنامے عموماً ان شخصیات کے ذریعے انجام پائے جن کی تربیت مشائخ اور اہلِ علم کے زیرِ نگرانی ہوئی تھی۔دینی جدوجہد کے لیے علمی صلاحیت کے ساتھ روحانی تربیت، اخلاص اور استقامت بھی ضروری ہے۔ نائب امیر الہندمولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری نے کہا کہ ادارے کی مستقل ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل اور باصلاحیت افراد کو آگے بڑھایا جائے اور انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں. مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء یوپی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا ۔
کتب کی رسمِ اجرا
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے سابق اہم رہنما حضرت مولانا محمد ابراہیم الوریؒ کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب، طلبہ کے لیے اہم کتاب ’’سیرت النبی ﷺ: 150 سوالات و جوابات‘‘، مفتی اشفاق قاضی کی تصانیف ’’فیصلے کی دہلیز پر‘‘، ’’کاؤنسلنگ سینٹر کیسے قائم کیا جائے؟‘‘ اور ’’نکاح گائیڈ بک‘‘ سمیت متعدد کتابوں کی رسمِ اجر ااکابر جمعیۃ کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور ناظمِ تنظیم جمعیۃ علماء ہند برائے جنوب مولانا محمد عمر قاسمی نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔مولانا یحییٰ کریمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہریانہ و پنجاب وہماچل پردیش نے تحریکِ صدارت پیش کی، جس کی تائید مولانا عاقل صاحب، صدر جمعیۃ علماء مغربی یوپی اور مولانا سعید احمد صاحب،صدر جمعیۃ علماء منی پور نے کی۔ اجلاس میں مفتی سید محمد صالح حسنی، امین عام مظاہر علوم سہارنپور، مفتی راشد اعظمی دارالعلوم دیوبند ،مفتی محمود صاحب بارڈولی؛ مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیۃ علماء مغربی بنگال، مولانا حسن محمود کھیروا (راجستھان)، مولانا ندیم احمد صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر، مفتی افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مولانا شمس الدین بجلی قاسمی ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء کرناٹک ،مفتی اشفاق قاضی ممبئی، مفتی جاوید اقبال کشن گنجی صدر جمعیۃ علماء بہار ،مولانا ناظم ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء بہار، حاجی محمد ہارون صدر جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش، مولانا عبدالقوی رکن مجلس عاملہ ،مولانا عبدالواحد کھتری ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماءراجستھان ،مولانا منصور کاشفی صدر جمعیۃ علماءتامل ناڈو ، ،مولاناساجد فلاحی، مولانا ابراہیم، صدر جمعیۃ علماء کیرالہ ، نظام الدین سابق ایم ایل اے سکریٹری جمعیۃ علماء تامل ناڈد،مولانا حمید اللہ میر کشمیری،مفتی عبداللہ معروفی، استاذ دارالعلوم دیوبند؛ مفتی عبدالرزاق امروہوی، استاذ دارالعلوم دیوبند؛ مولانا علی حسن مظاہری، ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ و متحدہ پنجاب؛ مولانا قاضی عبدالماجد نظامی صدرجمعیۃ علماء آندھرا پردیش، مولانا مین الحق عبداللہ اسامہ قاسمی ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی، مولانا عبدالقادر آسام نائب صدر جمعیۃ علماء آسام ، لانا فضل الکریم سکریٹری جمعیۃ علماء آسام ،مولاناابودرداء معوذ ممبئی، مفتی مہدی حسن عینی اورمولانا عظیم اللہ صدیقی، سکریٹری جمعیۃ علماء ہند سمیت دیگرعلمائے کرام، عہدے داران نے خطاب کیا، تجاویز پیش کیں اور تائید کی ۔ اجلاس کے انتظام و انصرام میں میوات سے مولانا یحیی کریمی ، مولانا شیر محمد امینی، قاری اسلم بڈیڈوی، مفتی سلیم ساکرس، ماسٹر قاسم مہوں، مولانا دلشاد ہینگن پور، مولانا شیر محمد تاوڑو،مفتی ہاشم تاوڑو،، مفتی ارشد باٹوکس، مولوی عارف ندوی،مولوی اظہر ظفر مہوں، قاری ساجد کریمی ، قاری زکریا مہوں مع ٹیم اور جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری مع ٹیم نے بڑی محنت و جانفشانی کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
فلم ساز سنجے گپتا کے اچانک انتقال کی خبر سے بالی ووڈ میں غم کی…
خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…
آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…
کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…
اڈانی یونیورسٹی نے 2026 کے بیچ کی تیسری تقریبِ تقسیمِ اسناد میں 374 طلبہ کو…
سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈراعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم نے رام…