قومی

Chandrachud explains delay in vacating government bungalow: ’’میرا سامان پیک ہے‘‘ سرکاری بنگلہ خالی کرنے میں تاخیر پر سابق سی جے آئی چندرچوڑ کی وضاحت

سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے متعلق جاری تنازعہ کے درمیان سابق سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سرکاری بنگلہ خالی کرنے میں تاخیر کے متعلق کہا کہ ان کی بیٹیاں ریئر ڈِس آرڈر سے متاثر ہیں، جن کے لیے انہوں نے گھر میں ہی آئی سی یو کا سیٹ اَپ کیا ہے اور ان کے کسی نئے گھر میں شفٹ ہونے کے لیے ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ واضح ہو کہ جسٹس چندرچوڑ سی جے آئی کی رہائش گاہ چھوڑنے کے بعد 3 مورتی مارگ پر الاٹ شدہ سرکاری رہائش میں رہیں گے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ابھی دہلی میں 5 کرشنن مینن مارگ پر ٹائپ 7 بنگلہ میں رہ رہے ہیں۔

ہم نے اپنا سامان اور فرنیچر پیک کر لیا ہے

بار اینڈ بنچ سے بات کرتے ہوئے سابق سی جے آئی نے کہا کہ ہم نے اپنا سامان اور فرنیچر پیک کر لیا ہے۔ صرف روزانہ استعمال ہونے والا فرنیچر باہر ہے، جسے ایسے ہی ٹرک میں رکھ کر نئے گھر لے جائیں گے۔ اس سب میں مشکل سے 10 روز اور لگیں گے یا زیادہ سے زیادہ 2 ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی سابق سی جے آئی نے بتایا کہ پہلے بھی کئی ججوں کو بنگلے میں رہنے کا وقت بڑھایا جا چکا ہے۔

نومبر 2024 میں سی جے آئی کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ

واضح ہو کہ جسٹس چندرچوڑ نومبر 2024 میں سی جے آئی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ انہیں اس بنگلہ میں رہتے ہوئے 8 ماہ گزر چکے ہیں، جس پر سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرکزی شہری ترقی کی وزارت کو خط لکھ کر بنگلہ خالی کرانے کو کہا۔ خط میں بتایا گیا کہ انہیں عارضی رہائش گاہ کے طور پر ٹائپ 7 بنگلہ ملا تھا، لیکن سپریم کورٹ انتظامیہ سے درخواست کر کے انہوں نے پرانے بنگلہ میں 30 اپریل 2025 تک رہنے کی اجازت طلب کی تھی۔

کوئی بھی مکان مالک اتنی کم مدت کے لیے مکان دینے کو تیار نہیں

سابق سی جے آئی چندرچوڑ کا کہنا ہے کہ انہیں تین مورتی مارگ پر جو نیا بنگلہ ملا ہے، اس میں کام چل رہا تھا اور ٹھیکیدار نے جون تک کام ختم کرنے کی بات کہی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 2 سال سے یہ بنگلہ خالی تھا کیوں کہ کوئی بھی جج اس بنگلہ میں رہنے کے لیے تیار نہیں تھے اس لئے اس میں کافی کام ہونا تھا۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ انہوں نے 3 ماہ کے لیے کرایہ پر بھی گھر لینے کو سوچا لیکن کوئی بھی مکان مالک اتنی کم مدت کے لیے مکان دینے کو تیار نہیں ہے۔

نیملین میوپیتھی نام کے ڈس آرڈر کا شکار ہیں بیٹیاں

جسٹس چندچوڑ نے کہا کہ ان کی بیٹیاں اب 16 اور 14 سال کی ہیں، وہ اب 6 سال کی چھوٹی بچی نہیں ہیں۔ ان کی اپنی عزت، پرائیویسی اور ضروریات ہیں۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، جیسے باتھ روم کے دروازے کا سائز تاکہ ان کا وہیل چیئر اندر جا سکے۔ واضح ہو کہ جسٹس چندرچوڑ کی 2 بیٹیاں پرینکا اور ماہی جنہیں انہوں نے گود لیا ہے، دونوں نیملین میوپیتھی نام کے ڈس آرڈر کا شکار ہیں۔

 بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Manoj Tiwari Address Students: مہاراجا اگرسین کالج میں منوج تیواری کا نوجوانوں کو پیغام، کہا- زندگی کی اقدار اور ہنر کے ساتھ کامیابی کی راہ طے کریں

دہلی یونیورسٹی کے مہاراجا اگرسین کالج میں طلبہ یونین کی حلف برداری تقریب کے دوران…

1 minute ago

Acid Attack: اسپتال سے گھر لوٹ رہی تھیں خاتون ڈاکٹر، سرپھرے نے پھینکا تیزاب؛ پولیس بھی حیران، تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات

بہار کے بیگوسرائے میں اسپتال سے گھر واپس جا رہی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے…

37 minutes ago

From Teesta to Trishuli: تیستا سے تریشولی تک: ہمالیائی پن بجلی کے لیے موسمیاتی حقائق کا جائزہ کیوں ضروری ہے؟

صرف بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت اور منصوبوں کے اعداد و شمار کافی…

56 minutes ago

Bihar Boat Accident: وزیراعظم مودی نے راگھوپور کشتی حادثے پر دکھ کا کیا اظہار، کہا، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں

بہار کے ضلع ویشالی کے راگھوپور میں کشتی حادثے نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین…

1 hour ago