نئی دہلی: ملک میں مختلف مقامات پرآئے دن کسی نہ کسی مساجد کونشانہ بنائے جانے کے خلاف اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ دہلی میں ریس کورس مسجد کے بعد کرشی بھون کی قدیمی مسجد کے انہدام سے متعلق حکومت کی طرف سے عدالت میں عرضی لگائے جانے کے بعد مختلف طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں اورحکومت کی منشا پرسوال اٹھائے جارہے ہیں۔ اسی ضمن میں ماہرتعلیم اورمولانا آزاد اردویونیورسٹی، جودھپورکے سابق صدراورممتازدانشورپروفیسراخترالواسع نے وزیراعظم نریندرمودی کے نام کھلا خط لکھ کربڑی اپیل کی ہے۔
پروفیسراخترالواسع نے وزیراعظم مودی کو مخاطب کرتے ہوئے آج (5 نومبر، 2026) لکھا ہے، ’’میں یہ خط آپ کوانتہائی دکھ اورتکلیف کے عالم میں لکھ رہا ہوں۔ آپ نے وزیراعظم ہوتے ہی سب کا ساتھ، سب کا وکاس کومحض ایک نعرے کے طورپرنہیں بلکہ ایسا لگتا تھا کہ آپ نے اسے دل کی گہرائیوں سے ہم تک پہنچایا ہے۔ لیکن اس کے بعد اخلاق کے قتل کا معاملہ ہو یا ہجومی تشدد کے تاہنوزہونے والے واقعات، مسلمان لڑکوں اورہندولڑکیوں کی شادی کے واقعات ہوں، زمینیں خریدنے کا معاملہ ہویا ملازمتوں میں محنتوں کے نتیجے میں جگہ پانے کے مواقع، دائیں بازو کی قوتوں نے اسے گئوکشی، لوجہاد، زمین جہاد اورنوکری جہاد کا نام دے کرمطعون کرنا اورمذموم بنانا شروع کردیا اورہرمسجد، مزاراوراوقاف کی املاک پربلڈوزرچلوانا ایک شعاربنا دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے گھروں کوتوڑنا سرکاری مشنریوں کے ذریعہ ایک عام بات ہوگئی ہے۔ نیزمسلمانوں کوگھس پیٹھیا (درانداز) بتانا ایک فیشن بن گیا ہے اوراس سب کو بی جے پی کی مختلف ریاستی حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
مرکزی سرکارکی ناک کے نیچے بنایا جا رہا ہے نشانہ: پروفیسراخترالواسع
پروفیسراخترالواسع نے مزید لکھا کہ اب تک یہ سب کچھ دوریاستوں میں ہورہا تھا، لیکن اب یہ سب کچھ مرکزی سرکار کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔ ابھی ریس کورس روڈ کی مسجد کا قضیہ ختم نہیں ہوا تھا کہ کرشی بھون کی پرانی مسجد کومنہدم کرنے کی بات ہونے لگی ہے اورنہ جانے دہلی میں کتنے مزار، کتنی خانقاہیں اورمساجد توڑ دیئے گئے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ آپ نے اس کو سیکولرازم کی نشانی کے طورپر لیا ہے جبکہ اصل سیکولرازم یہ ہے کہ یہ مسجدیں، یہ مزارات، یہ خانقاہیں اور یہ مدارس باقی رہیں ورنہ کس منہ سے ہم ہرتھانے اورپولیس چوکی میں مندر کے قیام کا جواز پیش کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم مودی سے کی یہ بڑی اپیل
انہوں نے وزیراعظم مودی سے اپیل کی ہے کہ آپ جنہیں عالم اسلام نے خوب نوازا ہے اوراپنے اعلیٰ اعزازات سے سرفرازکیا ہے، انہیں اس سلسلے پرتوجہ دینی چاہئے اوران تمام شرارت پسند، انسانیت سوزاورمکروہ ترین افعال کو روکنا چاہئے۔ ملک ویسے ہی تمام طرف سے گھیرا جا رہا ہے، اس کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ہمیں ایسا کوئی کام نہیں ہونے دینا چاہئے، جس سے کہ وطن عزیزکی اوربدنامی ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو-
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
ڈی آر ڈی او نے جمعرات کی صبح 11 بج کر 10 منٹ پر اوڈیشہ…
دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…
بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…
پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…
نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…