تصویر: کامن کاز انڈیا
’’کامن کاز‘‘ نامی ایک این جی او نے ڈاکٹروں، وکلاء اور ججوں کے بسیط انٹرویوز کی بنیاد پر ’’اسٹیٹس آف پولیسنگ ان انڈیا رپورٹ-2025‘‘ شائع کی ہے۔ این جی او نے ان ڈاکٹروں، وکلا اور ججوں کے انٹرویوز پر اس رپورٹ کی بنیاد اس لیے رکھی ہے، کیوں کہ یہ یکساں طور پر پولیس اور زیر حراست لوگوں سے گفتگو میں مشغول ہوتے ہیں۔ این جی او نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جو لوگ غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، خاص طور پر مسلم، دلت اور آدیواسی، وہ ہندوستان میں پولیس تشدد کے عمومی شکار ہیں۔ ساتھ ہی ایسے لوگ جو پڑھ لکھ نہیں سکتے، پولیس تشدد کا شکار ہونے والوں میں ان کی تعداد بھی نمایاں ہے۔
کچھ معاملات میں ملزمین پر ہجومی تشدد کے حامی ہیں ایک چوتھائی پولیس اہلکار
این جی او کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 20 فیصد پولیس اہلکاروں کا خیال ہے کہ پولیس کے لیے عوام میں خوف پیدا کرنے کے مقصد سے سخت طریقے استعمال کرنا ضروری ہے۔ جب کہ 35 فیصد پولیس اہلکاروں کا ماننا ہے کہ کچھ مواقع پر نہایت اہم ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ہر چار میں سے ایک پولیس اہلکار‘‘ جنسی ہراسانی اور بچوں کو اٹھانے یا اغوا کرنے کے معاملے میں مجرموں کے ساتھ ہجومی تشدد کو جائز سمجھتا ہے۔
کامن کاز کی اس رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہجومی تشدد کے حامی پولیس اہلکاروں میں بڑی تعداد گجرات کے پولیس اہلکاروں کی تھی۔ جب کہ کیرالہ پولیس کے افسران کی تعداد اس کی حمایت کرنے والوں میں سب سے کم رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے پولیس تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اعدادوشمار پیش کرنے میں کافی تضادات کو روا رکھا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’’تشدد‘‘ ایک مختصر جدول میں درج ہوتا ہے، جس میں ریاستی معلومات اکثر و بیشتر نہ کے برابر ہوتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی رہائش گاہ…
موہن یادو نے لوگوں سے جنگلی حیات کے محفوظ مسکن اور قدرتی توازن کو برقرار…
ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…