بھارت کی جانب سے کلیدی عالمی دارالحکومتوں میں کثیرالجماعتی پارلیمانی وفود بھیجنے کا فیصلہ کوئی معمولی سفارتی اقدام نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ایک مضبوط پیغام ہے۔ یہ اقدام ایک ایسی سیاسی فضا میں سامنے آیا ہے جو اکثر تقسیم کا شکار رہتی ہے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں بھارت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوتا ہے۔ سات وفود، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں، غیر ملکی حکومتوں کو 22 اپریل کے پہلگام دہشت گرد حملے میں پاکستان کے براہ راست کردار، دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی اس کی دیرینہ روش، اور آپریشن سندور کے تحت حالیہ پیش رفت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
یہ وفود بھارت کے اس عزم کو اجاگر کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحدہ موقف اپنائے ہوئے ہے۔ پہلگام حملے کے بعد، جہاں 26 افراد ہلاک ہوئے، بھارت نے نہ صرف فوجی جوابی کارروائی کی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ یہ وفود عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ اس اقدام سے بھارت یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ اپنے موقف کو عالمی سطح پر واضح کرنے کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکتا ہے۔
اس سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے بھارت کی اندرونی سیاسی یکجہتی کو عالمی سطح پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی حمایت کی ہے، جبکہ بعض جماعتیں، جیسے کہ ترنمول کانگریس، اس وفد کا حصہ نہیں بنیں۔ تاہم، مجموعی طور پر یہ اقدام بھارت کے سیاسی اسپیکٹرم کی وسیع نمائندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل، پہلگام حملے کے بعد اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے اور تمام جماعتوں کی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو قومی سلامتی کے معاملات میں مل کر کام کرنے کی خواہش کو عکاسی کرتا ہے۔
یہ کثیرالجماعتی وفود نہ صرف پاکستان کے اقدامات کے خلاف بھارت کے موقف کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی برادری کو یہ بھی دکھائیں گے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ یہ سفارتی اقدام آپریشن سندور کے تحت کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وہ دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے۔ اگرچہ اس اقدام کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہوں گے، لیکن یہ بھارت کی سفارتی طاقت اور قومی اتحاد کے عزم کا ایک روشن اشارہ ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…