قومی

Multi-party delegations are to secure support for India: کثیر الجماعتی وفود ہندوستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نکلے ہیں،ملکی سیاسی اختلافات کو اجاگر کرنے کیلئے نہیں:سلمان خورشید

سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ مرکز کی طرف سے تشکیل دی گئی کثیر الجماعتی وفود، جو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد آپریشن سندور کے حوالے سے بھارت کا مؤقف واضح کرنے کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، کا مقصد ملک کے لیے واضح حمایت حاصل کرنا ہے نہ کہ ملکی سیاسی اختلافات کو اجاگر کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وفود قومی مفاد کے لیے متحدہ پیغام لے کر جا رہے ہیں، اور ان کا ہدف دہشت گردی کے خلاف بھارت کے سخت موقف کو عالمی سطح پر پیش کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  انہیں اس مشن پر بھیجا ہے تاکہ وہ ملکی مفادات کے لیے کام کریں، نہ کہ پارٹی سیاست کو فروغ دیں۔

یہ وفود، جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین شامل ہیں، بھارت کے  جموں و کشمیر میں ہونے والے پہلگام حملے کے بعد شروع کیے گئے آپریشن سندور کے تناظر میں عالمی برادری کو بھارت کے موقف سے آگاہ کر رہے ہیں۔سلمان  خورشید، جو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں، نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو عالمی سطح پر پیش کرنا ضروری ہے، اور اس بحث کو ملکی سیاسی اختلافات میں نہیں الجھنا چاہیے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد معمولات کی بحالی اور 65 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ انتخابات کے انعقاد کو جمہوری پیش رفت کے طور پر اجاگر کیاتھا۔

سلمان خورشید ایشیا کے اہم ممالک جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور کا دورہ کرنے والے ایک وفد کا حصہ ہیں، جس کی قیادت جنتا دل (یونائیٹڈ) کے رکن پارلیمنٹ سنجے کمار جھا کر رہے ہیں۔ اس وفد میں بی جے پی، ترنمول کانگریس اور سی پی آئی (ایم) کے اراکین بھی شامل ہیں، جو پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں بھارت کے موقف کو واضح کر رہے ہیں۔ خورشید نے انڈونیشیا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ دوطرفہ طور پر کیا گیا، اور اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں تھی، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا۔

یہ کثیر الجماعتی وفود 25 ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین اور مستقبل کے ممکنہ اراکین شامل ہیں، تاکہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کی حمایت کے خلاف بھارت کے سخت موقف کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ اقدام 1994 اور 2008 کے بعد سے بھارت کی روایتی سفارتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جب اس نے دہشت گردی کے خلاف عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسی طرح کے وفود بھیجے تھے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت کی مسلح افواج نے آپریشن سندور میں جدید جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، اور یہ وفود عالمی سطح پر بھارت کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو تقویت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Asian Games 2026: سیمی فائنل میں پہنچی ٹیم انڈیا، موسلادھار بارش کے باعث افغانستان کے خلاف کوارٹر فائنل منسوخ

شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…

23 minutes ago

PM Modi Congratulates Indian Teams :چیس اولمپیاڈ میں سلور اور برونز میڈل جیتنے پر پی ایم مودی نے بھارتی ٹیم کو دی مبارکباد

میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…

2 hours ago