ترنمول کانگریس کی بے باک لیڈر اور رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو کیش فار کوئری معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے فی الحال کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ عدالت نے ان کی جانب سے کارروائی پر عبوری روک لگانے کی مانگ والی عرضی بھی خارج کر دی ہے، ساتھ ہی عدالت نے مہوا موئترا کی طرف سے دائر عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس انل چھیترپال کی سربراہی میں بنچ کر رہی ہے۔ مہوا موئترا نے عدالت سے 12 نومبر کے اُس حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی، جس میں لوک پال نے مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کو چار ہفتوں کے اندر ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کی اجازت دی تھی۔ مہوا موئترا کا مؤقف ہے کہ یہ حکم اُن کی دلیلوں اور دستاویزی پیشکشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے، جس سے انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
لوک پال کے حکم کو چیلنج
مہوا موئترا کی عرضی کے مطابق 12 نومبر کو لوک پال کی مکمل بنچ نے لوک پال و لوکایکت ایکٹ 2013 کی دفعہ 20(7)(اے) اور دفعہ 23(1) کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے سی بی آئی کو چارج شیٹ داخل کرنے کی اجازت دی تھی اور اس کی ایک کاپی لوک پال کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ مہوا موئترا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غیر قانونی ہے اور عدالتی اصولوں کے منافی ہے، کیونکہ اسے ان کی تفصیلی تحریری اور زبانی دلیلوں پر غور کیے بغیر دیا گیا ہے۔
سی بی آئی اور لوک پال کو رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے لوک پال اور سی بی آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ مہوا موئترا کے خلاف جاری تحقیقات کی کارروائی کو مکمل طور پر خفیہ رکھیں اور 5 جون کو جاری سرکولر کے مطابق قانونی تقاضوں پر عمل کریں۔ عدالت نے یہ ہدایات اس پس منظر میں دیں کہ لوک پال کو سونپی گئی سی بی آئی کی رپورٹ میڈیا میں لیک ہو گئی تھی۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ دسمبر 2023 میں لوک سبھا کی اخلاقی کمیٹی نے مہوا موئترا کو قصوروار قرار دیتے ہوئے انہیں پارلیمانی رکنیت سے برطرف کر دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے صنعتکار درشن حیرانندانی سے نقد رقم اور تحائف حاصل کر کے پارلیمنٹ میں سوال پوچھے، جسے کیش فار کوئری اسکینڈل کہا گیا۔ مہوا موئترا نے ان الزامات کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور عدالت سے انصاف کی درخواست کی ہے۔ تاہم، دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری روک کی عرضی خارج ہونے کے بعد سی بی آئی کی جانب سے چارج شیٹ دائر کرنے کی کارروائی آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ عدالت اب مہوا موئترا کی طرف سے دائر عرضی پر فیصلہ محفوظ کر چکی ہے، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں اس کیس کی سماعت کو سیاسی اور قانونی دونوں زاویوں سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پرنو اڈانی نے مہاراشٹر کو ملک کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل قرار دیتے ہوئے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ جب تک انسانیت کے…
گاندھی جینتی پر جانیے کہ آج کے دور میں گاندھی وادی ہونے کا اصل مطلب…
صدر دروپدی مرمو نے نئی دہلی کے وجے گھاٹ پہنچ کر سابق وزیر اعظم لال…
سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے جن پتھ،…
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ ختم کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی…