نئی دہلی : انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) ممبئی کے پوا ئی کیمپس میں جمعہ کی شام 22 سالہ بی ٹیک طالب علم ساحل رویندر واکوڑے کی موت کے بعد طلبہ نے رات بھر احتجاج کیا۔ طلبہ نے کیمپس میں مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔پولیس کے مطابق ساحل کو جمعہ کے روز امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ آئی آئی ٹی ممبئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طالب علم نے امتحانی پرچے کی تصویر مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جواب حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
آئی آئی ٹی کا کیا کہنا ہے؟
ادارے کے مطابق اس معاملے میں طالب علم کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ آئی آئی ٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امتحان کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد امتحان کے نگران اور شعبۂ سربراہ نے طالب علم سے بات چیت کی اور اس کی کونسلنگ کی تھی۔بیان کے مطابق ساحل کو یقین دلایا گیا تھا کہ اس واقعے کا اس کے تعلیمی مستقبل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔اس کے بعد ساحل اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا۔ شام کو اس کے کمرے سے کوئی جواب نہ ملنے پر ہاسٹل کے طلبہ نے ادارے کے حکام کو اطلاع دی۔ بعد میں پولیس کو بھی اطلاع دی گئی۔پولیس موقع پر پہنچی اور دروازہ کھولا تو ساحل مردہ پایا گیا۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ابتدائی طور پر پوا ئی پولیس نے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی تھی۔ بعد میں پولیس نے واقعے سے متعلق تمام افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ساحل کے اہل خانہ ممبئی پہنچ چکے ہیں اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کیمپس میں موجود طلبہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
’میرے بیٹے کو مارا گیا، مجھے انصاف چاہیے‘
ساحل کی والدہ نے اپنے بیٹے کو مبینہ طور پر اذیت دیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا، ’’میرے بیٹے کو مارا گیا، اسے اذیت دی گئی۔ مجھے انصاف چاہیے۔‘‘دوسری جانب احتجاج کرنے والے کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ امتحان میں موبائل فون استعمال کرنے کے واقعے کے بعد ساحل کو ایک سال کے لیے معطل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔طلبہ کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کارروائی کی جاتی تو انہیں ہاسٹل چھوڑ کر کیمپس سے باہر رہنا پڑ سکتا تھا اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے میں بھی تاخیر ہو سکتی تھی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور آئی آئی ٹی نے طالب علم کے خلاف ایسی کسی کارروائی کی تردید کی ہے۔
طلبہ نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا
واقعے کی خبر پھیلتے ہی جمعہ کی دیر شام بڑی تعداد میں طلبہ کیمپس میں جمع ہوگئے۔ انہوں نے انتظامیہ سے واقعے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے اور موت کے حالات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔صورتحال کے پیش نظر کیمپس میں پولیس فورس تعینات کی گئی۔ ڈی سی پی دتاتریہ نلواڑے نے بتایا کہ طالب علم کی موت کے بعد کچھ طلبہ نے اپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کیا۔آئی آئی ٹی انتظامیہ طلبہ سے بات چیت کر رہی ہے اور معاملے کا پُرامن حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طلبہ احتجاج ختم کرکے ہٹ گئے ہیں، جبکہ دیگر طلبہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
سات ماہ میں طالب علم کی موت کا تیسرا واقعہ
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ کے دوران طالب علم کی موت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔فروری میں دوسرے سال کے ایک طالب علم کی ہاسٹل میں موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد جولائی 2026 میں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے دوران 20 سالہ بی ٹیک دوسرے سال کے طالب علم نے بھی خودکشی کرلی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…