تہران: بھارت کی جانب سے مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبتر مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین نے جمعہ کو تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔ مرکزی وزیر مملکت پبترا مارگریٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے اور بہار کے گورنر نے تہران میں منعقدہ آخری رسومات میں بھارت کی نمائندگی کی اور بھارتی حکومت و عوام کی جانب سے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
Hon’ble @GovernorBihar and I represented India at the funeral ceremony for Grand Ayatollah Seyyed Ali Khamenei, former Supreme Leader of Iran, in Tehran.
Conveyed our respects on behalf of the Government and the people of India.@PMOIndia@MEAIndia pic.twitter.com/cK4bYZ6Lot
— Pabitra Margherita (@PmargheritaBJP) July 3, 2026
دوسری جانب بہار کے گورنر سید عطاء حسنین نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں حالیہ تنازع میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔
Represented India at the funeral ceremony of His Eminence Grand Ayatollah Seyyed Ali Khamenei in Tehran today, along with MoS External Affairs @PmargheritaBJP. Also extended deepest condolences to the families of those who lost their lives in the recent conflict.@MEAIndia… pic.twitter.com/4TwhWINdQZ
— Bihar Lok Bhavan (@GovernorBihar) July 3, 2026
عالمی رہنماؤں کی بڑی تعداد کی شرکت
تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں منعقدہ تقریب میں ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، چیف جسٹس غلام حسین محسنی اور عسکری کمانڈر محسن رضائی سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات نے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں بھارت کی دیگر ممتاز شخصیات، جن میں محبوبہ مفتی اور کانگریس کے شعبۂ خارجہ کے سربراہ سلمان خورشید بھی شامل تھے، نے بھی آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب میں تقریباً سو ممالک کے وفود کی شرکت
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق تقریب میں تقریباً 100 ممالک کے سرکاری وفود، مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ترکمانستان، عراق، آرمینیا، تاجکستان، پاکستان اور عراق کے کردستان خطے سمیت متعدد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ آذربائیجان، بنگلہ دیش، ازبکستان، بیلاروس اور کرغزستان کے پارلیمانی سربراہان، نکاراگوا، کانگو اور برکینا فاسو کے وزرائے خارجہ، مصر کی سینیٹ کے صدر، فلسطینی اسلامی جہاد کے سیکریٹری جنرل اور عمان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی موجود تھے۔
آخری رسومات کئی روز تک جاری رہیں گی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تقریب میں آٹھ سربراہانِ مملکت یا حکومت، بارہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان اور متعدد وزرائے خارجہ و خصوصی ایلچی شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی فوجی قیادت نے بھی بیرونی قوتوں کو کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ بعد ازاں نمازِ جنازہ اور جلوسِ جنازہ تہران، قم، بغداد، کربلا اور نجف سے گزرتا ہوا 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایس آئی آر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن سوشل میڈیا پر سرگرم ہوکر وائرل دعوؤں…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی اپنی تیاریوں میں تیزی…
جمعہ کو ہندوستانی وزارت خارجہ نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ…
مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے…
عالمی بازار میں سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ کے بعد شینزن کے شوبے گولڈ…
فاؤنڈیشن نے دہشت گردی کے الزامات کو ’سیاسی محرکات پر مبنی‘ قرار دیا، بلوچستان میں…