قومی

Monsoon Session 2026: مانسون اجلاس سے قبل کل جماعتی میٹنگ میں ہنگامہ، ٹی ایم سی کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو دیکھ کر اپوزیشن کا واک آؤٹ، بعد میں دوبارہ  ہوئے شامل

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس، جو 20 جولائی سے شروع ہو رہا ہے، سے قبل دہلی میں منعقد ہونے والی روایتی کل جماعتی میٹنگ سیاسی ہنگامے کا مرکز بن گئی۔ پارلیمنٹ ہاؤس اینیکسی میں منعقد اس اہم اجلاس میں کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے پر اتفاق رائے بنانے کے بجائے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔

باغی ٹی ایم سی ارکان کو دعوت دینے پر اپوزیشن کا احتجاج

تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا۔ اس فیصلے پر ناراض اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ اگرچہ شدید ہنگامہ آرائی اور گرما گرم بحث کے بعد اپوزیشن دوبارہ اجلاس میں واپس آ گئی، لیکن اس واقعے نے واضح کر دیا کہ آنے والا مانسون اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہنے والا ہے۔

اسپیکر کی منظوری کے بغیر باغی گروپ کو دعوت پر اعتراض

اس پورے تنازع کی بنیاد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کا وہ فیصلہ بنا، جس کے تحت انہوں نے ٹی ایم سی سے الگ ہونے والے ارکان کی نئی جماعت ’این سی پی آئی کوکو‘ کو بھی کل جماعتی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ جب تک لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اس باغی گروپ کو ایک آزاد پارلیمانی جماعت کے طور پر باضابطہ منظوری نہیں دی، تب تک حکومت انہیں ایسے اہم اجلاس میں کیسے شامل کر سکتی ہے۔ ٹی ایم سی کے سینئر لیڈر سوگت رائے اور کانگریس نے اسے پارلیمانی روایات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض کیا، جس کے بعد ایوان میں نشستوں کی تقسیم کو لے کر بھی شدید بحث چھڑ گئی۔

باغی ارکان کے لیے الگ نشستوں کا انتظام

اجلاس سے قبل باغی ارکان نے پارلیمانی امور کی وزارت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ٹی ایم سی کے ارکان کے ساتھ نہ بٹھایا جائے بلکہ ان کے لیے الگ نشستوں کا انتظام کیا جائے۔ حکومت نے اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود یہ مطالبہ قبول کرتے ہوئے ان کے لیے الگ بینچ مختص کر دیے، جس سے تنازع مزید بڑھ گیا۔

کرن رجیجو کی اپوزیشن سے تعاون کی اپیل

اس کشیدہ صورتحال کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن سے کہا کہ پارلیمنٹ سب کی ہے اور ملک کی ترقی کے لیے قانون سازی کے عمل میں تمام جماعتوں کی شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اگر پارلیمنٹ بہتر انداز میں چلے گی تو اس کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپوزیشن کے ہر جائز مطالبے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اپوزیشن بھی ایوان کی کارروائی چلانے میں مکمل تعاون کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Samajwadi Party Navratri Poster: نَوراتری پرسماج وادی پارٹی کے دفتر کے باہر لگا خاص پوسٹر، خواتین ووٹروں پر خاص توجہ

پوسٹر میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران خواتین کی سلامتی کے لیے شروع…

43 minutes ago

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

11 hours ago