قومی

Samajwadi Party meeting in Mosque: محب اللہ ندوی نے مسجد کو بنا دیا پارٹی دفتر، دینی درس کے بجائے دے رہے ہیں سیاسی درس

ممبر ومحراب کو سنبھالنے والے امام وخطیب نے اکثر مساجد کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ دینی  غیرت وحمیت کا سودا کرنے میں ان نام نہاد مذہبی قائدین   نےکئی بار ساری حدیں پار کیں ہیں ، اور ایسے ایسے لوگوں نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے جن کی پہنچان ہی  مذہب  سے بنی ہے،انہیں میں ایک تازہ نام محب اللہ ندوی کا جڑتا ہوا نظرآرہا ہے، جن کی پہنچان ممبرمحراب سے  بنی اور جو دہلی کی تاریخی مسجد کے امام کے طور پر معروف ہوئے ۔مولانا محب اللہ ندوی  جس مسجد میں امامت کررہے ہیں ،اس مسجد سے چند قدم کی دوری پر ملک کا پارلیمنٹ ہے ،وقت نے ایسی کروٹ لی کہ گزشتہ سال انہیں بھی پارلیمنٹ کی ہوا لگ گئی،سیاسی چاہ بڑھنے لگی اورمن  مسجد سے زیادہ پارلیمنٹ کی طرف مائل ہونے لگا، مسجد کے بجائے پارلیمنٹ کو مسلسل حسرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے ،اور اللہ کا کرم ایسا ہوا کہ ان کی امامت کے صدقے انہیں سیاسی سائیکل پر سوار ہونے کا جلد موقع بھی مل گیا۔ یوپی کے رام پور سے سماجوادی پارٹی نے 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں امیدوار بنایا اوروہ جیت کر پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ اب وہ گزشتہ ایک سال سے امامت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی کررہے ہیں ۔امامت کے ساتھ سیاست کررہے ہیں یا نہیں ،یہ ایک  ایسا سوال ہے جو جواب طلب ہے ،چونکہ ایم پی محب اللہ ندوی نے پارلیمنٹ میں جانے کے بعد بھی مسجد کی امامت وخطابت کسی اور کے حوالے نہیں  کی، وجہ جو بھی ہو لیکن ایک بات صاف ہے کہ محب اللہ ندوی اب امامت کم سیاست زیادہ کررہے ہیں اور اس کیلئے وہ پارلیمنٹ کے باہر مسجد کا بھی استعمال کررہے ہیں ۔

مسجد میں سماجوادی پارٹی کی ہوئی میٹنگ

محب اللہ ندوی اپنی سیاست کو چمکانے اور اپنامرتبہ اپنی پارٹی کی نظروں میں بڑھانے کیلئے  مسجد کا استعمال کررہے ہیں اور اس کا ثبوت یہ تصویر ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ تصویر اسی مسجد کی ہے جس مسجد میں وہ امام وخطیب ہیں ۔جس مسجد نے ان کو ایک پہچان دی ہے ،آج اسی مسجد کو محب اللہ ندوی ایک دوسری پہچان دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔تصویر21 جولائی کی ہے،یعنی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن کی ۔اس تصویر میں سماجوادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نظرآرہے ہیں،ننگے سر ڈمپل یادو بھی محب اللہ ندوی کے سامنے اس انداز میں بیٹھی ہیں جیسے مولانا محب اللہ ندوی  کسی کا نکاح پڑھا رہے ہیں اور ان کے پیچھے لوگ چھوہاڑا بانٹنے کی تیاری کررہے ہیں ،دھرمیندر یادو  بھی امام صاحب کے ساتھ  ہمہ تن گوش بیٹھے  ہیں ،کئی اور چہرے ہیں جو اسی فرش پر بیٹھ کر سیاست کررہے ہیں جس پر لوگ سجدہ کیلئے سر رکھتے ہیں اور اپنے حقیقی رب سے اپنا رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہاں محب اللہ ندوی کیا کررہے ہیں ،اس کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔تصویر دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مولانا محب اللہ ندوی سماجوادی پارٹی کے غیر مسلم ممبران پارلیمنٹ کو دین اسلام کی تعلیم دے رہے ہیں ، انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کررہے ہیں ۔ انہیں بتارہے ہیں کہ  مسجد کا مقام ومرتبہ اسلام میں کیا ہے۔ مسجد کے اندر بیٹھنے کے آداب کیا ہیں ،مسجد کے اندر کس کام کا شرعی حکم ہے اور کس طرح کے کام سے روکا گیاہے۔ عام طور پر مولانا محب اللہ ندوی کو اس پوزیشن میں مسجد کے اندر تب دیکھا گیا ہے جب وہ امامت کے بعد درس دے رہے ہوتے ہیں ، میرے خیال سے یہاں بھی اس تصویر میں مولانا محب اللہ ندوی درس ہی دے رہے ہیں ۔ لیکن بڑی بات یہ ہے کہ یہ سیاسی درس ہے اور وہ بھی غیر مسلم ممبران پارلیمنٹ کودے  رہے ہیں ، حالانکہ اس مسجد کے تقدس کا پاس ولحاظ رکھنے کی سب سے زیادہ  ذمہ داری ان کی ہی ہے،لیکن   سیاست  کس سے، کب ،کہاں اور کیا کرو ا لے ،کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

اس تصویر پر ہنگامے کے بعد مولانا محب اللہ ندوی کی جانب سے یہ وضاحت دی گئی کہ ان کی پارٹی کے لیڈران اچانک ان سے ملنے آگئے ،اس لئے انہیں اپنے لیڈران کے ساتھ ملنے اور بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ملی اور وہ اسی مسجد میں بیٹھ گئے جس میں وہ امامت کرتے ہیں۔اول  تومولانا محب اللہ ندوی کی یہ وضاحت اس لئے ہضم نہیں ہورہی ہے کہ اس میٹنگ میں پارٹی چیف اکھلیش یادو نظرآرہے ہیں اور اکھلیش یادو اچانک اپنے دیگر ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مسجد کا دروازہ کھٹکھٹا دیں ،یہ  مضحکہ خیز لگ رہا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر پہلی بات کو مان بھی لیں تو آپ کو بحیثیت ایم پی اور پارٹی لیڈر ہونے سے پہلے ایک امام کے طور پر سوچنا چاہیے  تھااور اس کے بعد فیصلہ لینا چاہیے تھا۔ مسجد کیا ہے،مسجد کا مقام کیا ہے،اس کے تقدس کا مطلب کیا ہے، یہ اب تک دیگر ممبران پارلیمنٹ کو خود آپ ہی بتاتے رہے ہیں اور آج آپ انہیں باتوں کو کیسے بھول سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر کل بی جے پی اور آرایس ایس یا بجرنگ دل کے کچھ سینئر لیڈران آپ سے ملنے پہنچ جائیں گے تو کیا آپ انہیں بھی اسی مسجد میں بیٹھائیں گے جہاں اکھلیش-ڈمپل کو بیٹھایا تھا۔ کیا کنگنا رناوت،مہوا موترا یا دہلی کی سی ایم ریکھا گپتا اچانک آپ سے ملنے پہنچ جائیں گی تو کیا انہیں بھی اسی فرش پر بیٹھائیں گے جہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں  اور کیا یہ آپ ان طاقتوں کیلئے دروازہ نہیں کھول رہے ہیں جن کی بری نظرمساجد ومدارس پر ہیں ۔اگر آج آپ نے اپنی پارٹی لیڈران کو منع نہیں کیا تو کل دوسری پارٹی کے لیڈران کو کیسے منع کریں گےاور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آپ یہ کیسے بھول گئے کہ یہ آپ کا سیاسی دفتر نہیں بلکہ مسجد ہے؟آج آپ نے اپنی پارٹی کی میٹنگ کی، کل دوسری پارٹی کے لیڈران اپنی میٹنگ کیلئے ہوٹل کے بجائے اس مسجد کا انتخاب کریں گے تو آپ انہیں کیسے منع کریں گے ؟ کیا انہیں آپ یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ یہ مسجد ہے، یہاں عبادت کی جاتی ہے،سیاست نہیں ؟ یہ سب ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات عوام کو دینے سے پہلے مولانا محب اللہ ندوی  خود کو دیں اور آئینہ کے سامنے کھڑے ہوکر ان سوالوں کا جواب دیں، تب انہیں اندازہ ہوگا کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔

مصلحت آمیز ہوتے ہیں سیاست کے قدم

تو نہ سمجھے گا سیاست تو ابھی نادان ہے

بھارت ایکسپریس۔

Dr. Khalid Raza Khan

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

57 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

1 hour ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago