قومی

منتخب لیڈران کی عمر پر سخت ہورہا ہے آرایس ایس؟ کیا 2029 کے الیکشن میں بدل جائے گی لوک سبھا کی تصویر؟

سیاست میں لیڈروں کی عمرایک نہ ختم ہونے والی بحث ہے، جس پرراشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ تبصرہ نے اس بحث کوپھرسے زندہ کردیا ہے۔ موہن بھاگوت کے اس تبصرے سے حکمراں پارٹی اوراپوزیشن دونوں ہی اپنے اپنے مطلب نکال رہے ہیں، لیکن عمرکے حوالے سے موہن بھاگوت کے اس تبصرے نے واضح کردیا ہے کہ آرایس ایس اب لیڈروں کی عمرسے متعلق سخت ہوتا جا رہا ہے۔

نوکری سرکاری ہویا پرائیویٹ، وہاں کے لئے کم ازکم عمراورزیادہ سے زیادہ عمرکی ڈیڈ لائن ہے۔ اہلیت (کوالیفکیشن) بھی مقررہے، لیکن سیاست میں کم ازکم عمرکے علاوہ ایسی کوئی قابلیت نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ سوال بارباراٹھتا ہے کہ لیڈران کوکس عمرتک سیاست میں سرگرم رہنا چاہئے؟ اب سنگھ سربراہ نے اس بڑے سیاسی سوال کا ایسا جواب دیا ہے، جوسب کے لئے سبق کی طرح ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ 75 سال کی عمرمکمل کرنے کے بعد لیڈروں کودوسروں کو بھی موقع دینا چاہئے۔

ناگپورمیں موہن بھاگوت نے دیا تھا بیان

موہن بھاگوت نے اس بیان کے لئے آرایس ایس کے پرانے لیڈرموروپنت پنگلے کی مثال دی ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ نے ناگپورمیں موروپنت پنگلے پرلکھی گئی کتاب موروپانت پنگلے- دی آرکیٹیکٹ آف ہندوریزرجنس کی ریلیزکے دوران ایک واقعہ سنایا۔ موہن بھاگوت نے کہا، ”ورنداون میں آرایس ایس کی ایک میٹنگ ہورہی تھی، اس میٹنگ میں موروپانت پنگلے کوان کی 75 سال کی عمرپراعزازدینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت کے سرکاریا واہ شیشادری نے بھی موروپنت کوشال پہنا کران کی عزت افزائی کی تھی۔ جب موروپنت کی بات کرنے کی باری آئی توانہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کو75 سال کی عمرمیں شال پہننے کا مطلب جانتا ہوں۔ ایک طرف ہٹ جائیں اوردوسروں کو کام کرنے کا موقع دیں۔“

سیاست سے ریٹائرمنٹ کی عمر پرآرایس ایس نے پہلے بھی دیا ہے بیان

تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آرایس ایس سربراہ نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کی عمرکی حد کے بارے میں بات کی ہو۔ سال 2020 میں بھی موہن بھاگوت نے 75 سال کی عمرکے لکشمن ریکھا کے بارے میں بات کی تھی اوراب ایک بار پھرعمر کے حوالے سے ان کا بیان ایک نیا سیاسی ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ عمرپرکسی کا کنٹرول نہیں ہوتا اوروقت کے ساتھ ساتھ لیڈروں کی عمربڑھتی رہتی ہے۔ ایسے لیڈربی جے پی میں بھی ہیں اورکانگریس میں بھی۔ دیگرکئی جماعتوں میں بھی بزرگ رہنماؤں کی ایک لمبی فہرست ہے۔

 ملک کی دوسری پارٹیاں نہیں، لیکن بی جے پی مانتی ہے آرایس ایس کی بات

اب کانگریس یا کوئی اوردوسری پارٹی توآرایس ایس سربراہ کی بات مانے گی نہیں، لیکن چند مستثنیات کوچھوڑکر، بی جے پی ہمیشہ سنگھ سربراہ کی بات سنتی ہے اورجس طرح سے سنگھ پرمکھ لیڈروں کی عمرپرسختی کرتے ہیں، اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے وقت میں کچھ ایسے لیڈر، جنہیں آپ بخوبی جانتے ہیں، کوسیاست کوخیرباد کہنا پڑے گا۔ ایسے میں یہ ممکن ہے کہ 2024 کی لوک سبھا میں جیتنے والے اورجن کوآپ پارلیمنٹ ہاؤس کی اگلی قطارمیں بیٹھے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ 2029 کی لوک سبھا میں بیٹھے ہوئے نہیں دکھائی دیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Five Indian nationals rescued from Hormuz: آبنائے ہرمز سے 5 بھارتی شہریوں کو بچایا گیا، جہاز پر پروجیکٹائل سے ہوا تھا حملہ

گزشتہ ماہ عمان کے مشرقی ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم وی کیپ ڈیو پر…

9 minutes ago

Olive Ridley Turtles: اولیو رڈلے کچھوؤں کے تحفظ کے لیے اڈانی فاؤنڈیشن کی پہل کو اڈیشہ حکومت کا ساتھ، رپورٹ میں سامنے آئے اہم حقائق

رپورٹ میں اولیو رڈلے کچھوؤں کے طویل سمندری سفر اور رویّوں سے متعلق کئی اہم…

17 minutes ago

Man Beaten to Death by Mob: بنگال میں گائے چوری کے شبہ میں جان لیوا حملہ، نوجوان کو پیٹ پیٹ کر کیا گیا قتل، 4 گرفتار

مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ نوجوان علاقے میں ہونے والی گائے چوری کی…

35 minutes ago

CJP Protest: ممبئی کے شیواجی پارک میں بغیر اجازت احتجاج، CJP لیڈروں سمیت 500 افراد کے خلاف FIR درج

پولیس کے مطابق، 2 اکتوبر کو شام 4 بجے سے 7 بجے کے درمیان شیواجی…

41 minutes ago

PM Modi Haryana MLAs Meeting: وزیر اعظم مودی کی ہریانہ کے وزرا اور ارکان اسمبلی سے اہم ملاقات، ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن پر ہوا تفصیلی غور

اجلاس کے دوران ریاستی حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت پر بھی تفصیلی…

2 hours ago