نئی دہلی میں ہفتہ کو وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات برکس سربراہی اجلاس سے الگ ہوئی، جس میں دونوں لیڈروں نے بھارت-چین تعلقات کو آگے بڑھانے اور پرانے اختلافات کو سنبھالتے ہوئے مستقبل کی جانب بڑھنے پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہونا فطری ہے، لیکن ان اختلافات کو تنازع میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں لیڈروں کا ماننا تھا کہ بھارت اور چین کو اپنے تعلقات کو چھوٹے چھوٹے مسائل کے بجائے طویل مدتی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔
سرحد پر امن کو ضروری قرار دیا
وزارت خارجہ کی جانب سے ملاقات کے بعد جاری بیان کے مطابق، اگست 2025 میں تیانجن میں مودی اور شی جن پنگ کی گزشتہ ملاقات کے بعد سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں مستحکم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں لیڈروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم مودی نے خاص طور پر سرحد سے متعلق مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام بھارت-چین تعلقات کو مسلسل آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرحد سے متعلق موجودہ معاہدوں اور دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں پر عمل کیا جانا چاہیے۔ سرحدی تنازع کے مستقل حل کے حوالے سے بھی دونوں لیڈروں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے لیے سیاسی نقطہ نظر اور دونوں ممالک کے عوام کے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ، مناسب اور دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے کی بات کہی گئی۔
باہمی رابطے اور آمدورفت بڑھانے پر زور
ملاقات میں گفتگو صرف سرحد یا اسٹریٹجک معاملات تک محدود نہیں رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت اور چین کے عوام کے درمیان بڑھتے رابطوں کو بھی اہم قرار دیا۔ ثقافتی تبادلے، تجارتی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی آمدورفت کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی دونوں فریقوں نے اپنی تشویش پر بات کی۔ خاص طور پر تجارت میں عدم توازن اور سپلائی چین سے متعلق مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان بازار تک بہتر، بامعنی اور پہلے سے زیادہ قابل پیش گوئی رسائی فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
عالمی مسائل پر تعاون بڑھانے کی کوشش
مودی اور شی جن پنگ نے علاقائی اور عالمی سطح پر سامنے آنے والے چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے تسلیم کیا کہ کئی بین الاقوامی معاملات پر بھارت اور چین کے درمیان مشترکہ بنیاد کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو مسلسل بات چیت اور تعاون کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم مودی نے بھارت کی برکس صدارت کے لیے چین کی حمایت کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے برکس سربراہی اجلاس 2026 کو کامیاب بنانے میں چین کے تعاون کے لیے صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چھترپتی شیواجی مہاراج اور ان کے سپہ سالار تاناجی مالوسرے کی بہادری اور قربانی کے…
نئی دہلی، 23 اکتوبر (آئی اے این ایس): پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے،…
امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن سے متعلق…
ناگویا: ہندوستان کے پیرا اولمپک اور عالمی چیمپئن سمیت انتل نے ایک اور بڑی کامیابی…
بچوں کو سائنس اور تحقیق کی جانب راغب کرنے کے لیے چین کی منفرد مہم،…
یو اے ای کے صدر کے دیوان میں ترقیاتی امور اور شہید ہیروز کے معاملات…