قومی

Battle For Data Sovereignty: ’ڈیٹا ہمارا، سرور بھی ہمارا…‘ برکس اپنا الگ کلاؤڈ انفراسٹرکچر کیوں بنانا چاہتا ہے؟

ڈیجیٹل دور میں اصل طاقت اب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا ڈیٹا کس کے پاس ہے اور اسے کون کنٹرول کرتا ہے۔ موجودہ دور میں ’ڈیٹا خودمختاری‘ محض ایک قانونی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ قومی سلامتی اور معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ اسی سلسلے میں برکس ممالک اپنا آزاد اور محفوظ کلاؤڈ انفراسٹرکچر تیار کرنے کی سمت میں غور کر رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا برکس ممالک امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا الگ ڈیجیٹل نظام قائم کر پائیں گے؟

آزاد کلاؤڈ کی ضرورت کیوں ہے؟

اس وقت عالمی کاروباری کلاؤڈ مارکیٹ پر ایمیزون، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا غلبہ ہے۔ سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر عالمی اخراجات 143 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔برکس ممالک کو خدشہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے سرورز پر حساس سرکاری ڈیٹا اور شہریوں کی معلومات محفوظ رکھنے سے قومی سلامتی اور تکنیکی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اصل چیلنجز کیا ہیں؟

صرف ڈیٹا سینٹر قائم کر لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ایک آزاد کلاؤڈ نظام قائم کرنے کے لیے برکس ممالک کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کا نظام: مغربی کمپنیوں کے پاس کئی دہائیوں کا تجربہ، ڈویلپر ٹولز، جدید سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ رکن ممالک کے درمیان اختلافات: برکس کے تمام رکن ممالک کے قوانین اور ترجیحات ایک جیسی نہیں ہیں۔ بھارت فن ٹیک اور آئی ٹی خدمات کے لیے ڈیٹا کے آزادانہ بہاؤ کی حمایت کرتا ہے، جبکہ کچھ ممالک ڈیٹا کو اپنے ملک کی حدود میں رکھنے کے سخت اصول چاہتے ہیں۔اعتماد کا فقدان: نجی کمپنیاں کسی مغربی ملک کے کنٹرول سے بچنا چاہتی ہیں، لیکن وہ کسی دوسرے رکن ملک کی نگرانی پر بھی مکمل اعتماد کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔

’ملٹی کلاؤڈ‘ نظام اختیار کرنے کا امکان

ماہرین کا ماننا ہے کہ راتوں رات مغربی کلاؤڈ سروسز کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے میں سب سے عملی حل ’ملٹی کلاؤڈ ماڈل‘ ہو سکتا ہے۔ اس نظام کے تحت انتہائی حساس سرکاری اور فوجی ڈیٹا کے لیے مقامی کلاؤڈ، کاروباری لین دین کے لیے علاقائی برکس کلاؤڈ اور عام تجارتی و کاروباری کاموں کے لیے عالمی کلاؤڈ سروسز کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔یوں برکس کے لیے مقصد صرف مغربی کلاؤڈ کمپنیوں کا متبادل تیار کرنا نہیں ہوگا بلکہ ایسا ڈیجیٹل نظام قائم کرنا ہوگا جس میں ڈیٹا کی خودمختاری، قومی سلامتی اور تکنیکی آزادی کے ساتھ عملی ضروریات کے درمیان بھی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UAE’s Sheikh met with PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے متحدہ عرب امارات کے شیخ ذیاب بن محمد بن زاید النہیان کی ملاقات

یو اے ای کے صدر کے دیوان میں ترقیاتی امور اور شہید ہیروز کے معاملات…

58 minutes ago

Chandigarh News: شریمد بھاگوت کتھا کے اختتام پر جذباتی ہوئے بی پراک، کہا-گرو جی! ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیجیے

چنڈی گڑھ میں سات روزہ شریمد بھاگوت کتھا کا اختتام، بی پراک اور اندریش مہاراج…

1 hour ago

PM Modi Swami Chinmayananda Hologram Interaction: ’بھارت تمہارے ساتھ ہے، نریندر‘: وزیر اعظم مودی نے سوامی چنمیانند کے ہولوگرافک اوتار سے کیا مکالمہ

چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس میں ٹیکنالوجی اور روحانیت کا انوکھا امتزاج، وزیر اعظم نے…

2 hours ago

Adani Green Earnings: اڈانی گرین کی آمدنی میں 41 فیصد کا اضافہ، لیکن 17,160 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور قرض کا دباؤ کتنا بڑا چیلنج؟

بجلی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، آپریشنل صلاحیت 20.8 گیگاواٹ تک پہنچی، بیٹری اسٹوریج…

2 hours ago

Oil India Natural Gas Discovery: آئل انڈیا نے کرشنا گوداوری بیسن میں قدرتی گیس کا بڑا ذخیرہ کیا دریافت

جانچ کے دوران روزانہ 2 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر تک گیس کا بہاؤ ریکارڈ، یومیہ…

2 hours ago