قومی

Rahul Gandhi accuses Modi government: مودی حکومت گورنروں کو اپوزیشن کی ریاستی حکومتوں کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، راہل گاندھی کا مرکز پر بڑا الزام

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے منگل کو ایک بار پھر مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ وفاقیت پر ضرب لگا رہی ہے اور گورنروں کو اپوزیشن کی ریاستی حکومتوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

راہل گاندھی نے ایم کے اسٹالن کے ٹوئیٹ کو ری پوسٹ کیا 

راہل گاندھی نے ایکس پر تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ایک سخت بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے — ایک ایسا یونین جو مختلف ریاستوں پر مشتمل ہے، جن کی اپنی الگ آواز ہے۔ مودی حکومت ان آوازوں کو دبانے اور منتخب ریاستی حکومتوں کو روکنے کے لیے گورنروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ یہ وفاقیت پر ایک خطرناک حملہ ہے اور اس کی مزاحمت ہونی چاہئے۔‘‘

راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حال ہی میں سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے مانگی ہے کہ کیا گورنر کے پاس اسمبلی سے منظور شدہ کسی بل کو منظوری دینے میں غیر معینہ مدت تک تاخیر کرنے کا اختیار ہے؟ اس آئینی سوال کو لے کر ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس سے پہلے 15 مئی کو ایم کے اسٹالن نے اسی معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’میں مرکزی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں کہ وہ پہلے سے طے شدہ آئینی پوزیشن کو، جسے سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے، بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

گورنروں کے لیے وقت کی حد طے کرنے پر اعتراض کیوں؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ تمل ناڈو کے گورنر بی جے پی کی ہدایت پر ریاستی اسمبلی کے فیصلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسٹالن نے سوال اٹھایا کہ گورنروں کے لیے وقت کی حد طے کرنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ گورنر بلوں کی منظوری میں لامحدود تاخیر کر سکیں؟ کیا مرکز کی نیت اپوزیشن کی حکومتوں کو مفلوج کرنے کی ہے؟

مختلف ریاستیں پہلے ہی اس طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار کرچکی ہیں

انہوں نے تمام غیر بی جے پی ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اس ’آئینی لڑائی‘ میں ساتھ آئیں اور ریاستی خودمختاری کا دفاع کریں۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر گورنر اسمبلی سے منظور شدہ کسی بل پر غیر معینہ مدت تک کوئی کارروائی نہ کرے تو یہ وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ کئی ریاستیں پہلے ہی اس طرز عمل پر ناراضگی ظاہر کر چکی ہیں۔

عام انتخابات سے قبل مرکز اور ریاستوں کے درمیان بڑھ سکتی ہے کشیدگی

راہل گاندھی اور اسٹالن کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل مرکز اور ریاستوں کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اُن ریاستوں میں جہاں اپوزیشن جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو وفاقی ڈھانچہ شدید متاثر ہو سکتا ہے اور عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Anant Singh 9 Murder Statement: اننت سنگھ کا دعویٰ، ’نتیش کمار کے لیے 9 قتل کروائے‘، باہوبلی رکن اسمبلی نے اور کیا کچھ کہا؟

بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جے ڈی یو کے رکن اسمبلی…

22 minutes ago

Reliance Reply To Musk: اسٹار لنک تنازع پر ریلائنس نے مسک کو دیا جواب، اسٹار لنک کا خیرمقدم ہے… ہمیں مقابلے سے کوئی ڈر نہیں ہے

گزشتہ ہفتے ایلن مسک نے ہندوستان میں اسٹارلنک کے داخلے کے معاملے پر ارب پتی…

2 hours ago

Akhilesh Yadav: لکھنؤ ایکسپریس کا انجن فیل ہوگیا ہے، راجناتھ سنگھ کی پریس کانفرنس پر اکھلیش کا طنز

۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ…

2 hours ago

CMRL-Exalogic Case: سی ایم آر ایل-ایکسالوجک معاملے میں پنارائی وجین کی بڑھیں مشکلیں، سپریم کورٹ کی سماعت پر سب کی نظریں

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو…

4 hours ago

Rahul Gandhi’s ‘Masterclass’: راہل گاندھی کی پاٹھ شالا، یوتھ کارکنوں سے کہا، ایف آئی آر سے نہ ڈریں، لمبی لڑائی کے لیے تیار رہیں

راہل گاندھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لے کر بھی جارحانہ انداز میں نظر…

4 hours ago