قومی

Highlights From Three Parliament Sessions of Modi 3.0: وقف بل، ٹیکس ریلیف، معطلیاں: مودی 3.0 کے تحت پارلیمنٹ کے گزشتہ تین اجلاسوں کی اہم جھلکیاں

بھارت کی پارلیمنٹ 21 جولائی سے 21 اگست 2025 تک مانسون اجلاس کے لیے تیار ہو رہی ہے۔ یہ اجلاس پہلگام دہشتگرد حملے اور پاکستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد پہلا اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں انکم ٹیکس بل 2025 سمیت کئی اہم بل زیر بحث آئیں گے۔ یہ اجلاس مودی حکومت کے تیسرے دور کی چوتھی پارلیمانی نشست ہوگی۔ اس سے قبل مانسون سیشن 2024، سرمائی اجلاس 2024 اور بجٹ اجلاس 2025 کئی اہم سیاسی اور قانون سازی کے لمحات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

سابقہ اجلاسوں کی جھلکیاں

مانسون اجلاس 2024: این ڈی اے کی مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کے فوراً بعد منعقد ہوا۔ اگرچہ قانون سازی کم ہوئی، تاہم اجلاس سیاسی طور پر خاصا گرم رہا۔ بجٹ پر بحث کے دوران وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے حکومت کی معاشی کارکردگی کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ ’’یو پی اے کے دور میں 2.9 کروڑ نوکریاں پیدا ہوئیں، جب کہ مودی حکومت میں 12.5 کروڑ۔ یہی فرق ہے سرخیوں اور محنت میں۔‘‘ وہیں اپوزیشن نے بجٹ کو ’’کرسی بچاؤ‘‘ اقدام قرار دیتے ہوئے بہار اور آندھرا پردیش کے لیے مبینہ جانبداری کا الزام لگایا۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’دس سال میں 25 کروڑ افراد غربت سے نکلے۔ یہ محض نعرہ نہیں، تبدیلی ہے۔‘‘

سرمائی اجلاس 2024:اس میں بھی ہنگامہ آرائی عروج پر رہی۔ 140 سے زائد اپوزیشن ارکان معطل کیے گئے، جو پارلیمانی تاریخ کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ حکومت نے ’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘ سے متعلق دو اہم بل پیش کیے جو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گئے۔

بجٹ اجلاس 2025: اس اجلاس میں حکومت نے نیا انکم ٹیکس خاکہ پیش کیا، جس کے تحت 12 لاکھ روپے تک آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ 1.5 لاکھ کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی منصوبے اور 200 نئی وندے بھارت ٹرینوں کا اعلان بھی ہوا۔ تاہم سب سے زیادہ بحث وقف (ترمیمی) بل 2024 پر ہوئی، جسے 12 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد لوک سبھا سے منظور کیا گیا۔

AIMIM کے اسدالدین اویسی نے اس بل کو ’’مسلم اداروں پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی کاپی پھاڑ دی، جب کہ کانگریس کی سونیا گاندھی نے اسے ’’آئین پر حملہ‘‘ اور ’’مستقل پولرائزیشن‘‘ کی کوشش قرار دیا۔ وہیں حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ بل شفافیت کے لیے ہے اور یو پی اے نے 123 املاک مقدمہ زیر سماعت ہونے کے باوجود وقف بورڈ کو دے دی تھیں۔

ان گزشتہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے اب مانسون اجلاس 2025 میں ایک بار پھر اہم سیاسی اور قانون سازی کے معرکے متوقع ہیں۔ خاص طور پر اپوزیشن نے جہاں حکومت کو آپریشن سندور اور بہار میں ایس آئی پر گھیرنے کا منصوبہ بنایا ہے، وہیں حکومت اس اجلاس کے دوران کئی اہم بل پیش کرنے والی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

3 hours ago