روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے مؤقف نے نیٹو حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں توانائی کا شعبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے روسی خام تیل کی رعایتی نرخوں پر خریداری جاری رکھنے پر نیٹو کی طرف سے غیر رسمی سطح پر ممکنہ پابندیوں یا تادیبی اقدامات کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔
نیٹو کا موقف ہے کہ ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناتے بھارت کو مغرب کے ساتھ زیادہ قریبی ہم آہنگی دکھانی چاہیے، خاص طور پر روس کے خلاف اقدامات میں۔ مگر بھارت نے واضح کیا ہے کہ اس کی روس کے ساتھ شراکت دیرینہ، اسٹریٹجک اور قابلِ اعتماد ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری اپنی توانائی سلامتی اور عوام کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے، نہ کہ روس کی جارحیت کی تائید کے طور پر۔
مرکزی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے حالیہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو خودمختار اور متوازن انداز میں ڈھالا ہے، جس میں ایک طرف امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کوآڈ جیسے اتحاد ہیں، تو دوسری طرف روس سے دفاعی تعاون بھی برقرار ہے۔ بھارت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنی اسٹریٹجک خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بھارت میں اس ممکنہ پابندی کے اشاروں کو ’’دباؤ کی سیاست‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عوامی سطح پر قومی خودمختاری کے بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔ ناقدین نے مغرب پر دہرا معیار اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، کیوں کہ یورپی ممالک خود بھی جنگ کے بعد طویل عرصے تک روسی گیس خریدتے رہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی پالیسی صرف توانائی نہیں، بلکہ عالمی طاقت میں توازن قائم رکھنے اور کثیر قطبی دنیا کے اصول پر مبنی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گورنر سنتوش گنگوار نے کہا کہ تیر اندازی یکسوئی اور درست نشانے کا کھیل ہے۔…
پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں 26 اکتوبر کو IVY بھوجپوری میوزک ایوارڈز 2026 کا انعقاد…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…