نیشنل کمیشن فارمائنارتی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس (این سی ای ایم آئی) کے کارگزار چیئرمین پروفیسر شاہد اخترمائنارٹی ایجوکیشن کوبا اختیاربنانے پرخصوصی توجہ مرکوزکررہے ہیں۔ان کا مقصد ہے ہے کہ آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتوں کے حقوق کو ان تک پہنچایا جائے اور اگراس میں کوئی رکاوٹ آرہی ہے تواسے دور کیا جائے۔ مائنارٹی ایجوکیشن کوبا اختیار بنانے کے موضوع پرانجمن اسلام کی جانب سے سیف طیب جی آڈیٹوریم، ممبئی میں منعقدہ ورکشاپ میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔
آپ کو بتا دیں کہ اقلیتی کمیشن کی ہدایت پرممبئی میں پہلی بار360 ڈگری ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں تینوں اہم شعبہ ہائے جات سے وابستہ این سی ای ایم آئی، مہاراشٹرکے عہدیداران اوراقلیتی تعلیمی اداروں نے شرکت کی اوراقلیتوں کے تعلیمی اداروں کے مسائل اورآئین ہند کے آرٹیکل 30 کے بارے میں بامعنی گفتگوکی۔ اس موقع پراقلیتوں کو درپیش چیلنجزپرتبادلہ خیال کیا گیا اوران کے حل کے لئے بھی حکمت عملی تیارکی گئی۔
اس ورکشاپ کے دوران قوم کی تعمیرمیں اپنا کردارادا کرنے پربھی زوردیا گیا اورآرٹیکل 30 کو حساس بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر ورکشاپس اورسیمینار منعقد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ظہیرآئی قاضی (پدم ایوارڈ یافتہ-2024) اور صدرانجمن الاسلام نے کی۔ تقریب کی مہمان خصوصی آنچل گوئل (آئی اے ایس)، ڈی ایم ممبئی تھیں۔ اس کے علاوہ اس ورکشاپ میں ریاستی عہدیداران، ضلعی عہدیداران، نائب صدر، سکریٹری، خزانچی، انجمن اسلامیہ ممبئی کے اراکین اورتقریباً 400 اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندے موجود تھے۔ پروگرام کا اہتمام انجمن اسلام ممبئی نے کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے 4,371.10 کروڑ روپے کے ’وِستار‘…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 6 نومبر کو دہرادون میں بی جے پی کی کور…
دیوالی اور چھٹھ کے پیشِ نظر دہلی کے 6 اہم ریلوے اسٹیشنوں پر 14 نومبر…
ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟…
دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ…
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 کے درمیان بھارت…