وزارت دفاع نے جمعہ، 8 اگست 2025 کو، رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے دعوؤں کی سختی سے تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان نے امریکی ہتھیاروں اور طیاروں کی خریداری کے منصوبوں کو روک دیا ہے۔ وزارت دفاع نے ان رپورٹس کو “غلط اور من گھڑت” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہتھیاروں کی خریداری کے مختلف معاملات موجودہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ میں تین بھارتی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہندوستانی برآمدات پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے بعد، ہندوستان نے اسٹرائیکر لڑاکا گاڑیوں، جاویلن اینٹی ٹینک میزائلوں، اور بوئنگ پی-8آئی نگرانی طیاروں کی خریداری کے مذاکرات روک دیے ہیں، جو کہ دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کا پہلا ٹھوس اشارہ ہے۔
وزارت دفاع کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسٹرائیکر لڑاکا گاڑیوں، جاویلن میزائلوں، اور چھ بوئنگ پی-8آئی طیاروں کی خریداری کے مذاکرات روکنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیاہے۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ کا مجوزہ دورہ واشنگٹن اس وجہ سے منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ شیڈولنگ مسائل کی وجہ سے اسے ملتوی کیا گیا ہے، اور نئی تاریخیں باہمی سہولت کی بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ یہ وضاحت اس تناظر میں اہم ہے کہ رائٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ راجناتھ سنگھ کے دورہ واشنگٹن کے دوران ان خریداریوں کا اعلان ہونا تھا، جو اب منسوخ ہو چکا ہے۔ ہندوستان نے ٹرمپ کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری کے ذریعے یوکرین پر روس کے حملے کی مالی مدد کر رہا ہے، اور کہا کہ مغربی ممالک خود بھی اپنے مفادات کے مطابق روس کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون حالیہ برسوں میں مضبوط ہوا ہے، لیکن ٹرمپ کی طرف سے 6 اگست 2025 کو ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے سے، جو کل ٹیرف کو 50 فیصد تک لے گیا، دو طرفہ تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔ ہندوستان، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ ہے، روایتی طور پر روس سے ہتھیار خریدتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں وہ فرانس، اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک کی طرف متنوع سپلائرز کی جانب منتقل ہوا ہے۔ وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ ہتھیاروں اور ہتھیاروں کے سسٹم کی خریداری کو روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور ہندوستان اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موجودہ طریقہ کار کے مطابق امریکی ہتھیاروں کی خریداری جاری رکھے گا۔ تاہم، ہندوستان اپنی دفاعی حکمت عملی میں خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے مقامی پیداوار اور دیگر ممالک جیسے کہ فرانس کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کرنے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بی جے پی ترجمان نے کانگریس کی قیادت پر کیپٹن اسمت مچھار کی بہادری پر…
کائنات نے گیند کے ساتھ ساتھ بلے سے بھی پاکستان کے لیے اہم کردار ادا…
سنجے دت نے کہا کہ ملک کے لوگ بہت پیارے ہیں اور یہاں امن ہونا…
انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی…
انتم نے 53 کلوگرام فری اسٹائل ریسلنگ میں سلور جیتا۔ پرنوی ارس، ادیتی اشوک اور…
پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا…