تر پردیش کے میرٹھ سے ظلم سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک خاتون نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو بے دردی سے قتل کرکے لاش کے ٹکڑے کردیئے۔ سارا معاملہ یہ ہے کہ سوربھ راجپوت نامی شخص لندن میں مرچنٹ نیوی آفیسر کے طور پر کام کرتا تھا۔ سوربھ اپنی بیوی اور 6 سالہ بیٹی پیہو کی سالگرہ منانے کے لیے 24 فروری کو ہندوستان آئے تھے۔ اہلیہ مسکان کی سالگرہ 25 فروری کو تھا۔ اسی دوران اس کی بیوی مسکان نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اسے چاقو کے وار کرکے قتل کردیا اور لاش کے 15 ٹکڑے کرکے گھر میں موجود سیمنٹ سے بھرے پلاسٹک کے ڈرم میں بند کردیا۔
حکام نے بدھ 19 مارچ کو یہ معلومات دی۔ متاثرہ سوربھ راجپوت حال ہی میں لندن سے میرٹھ واپس آیا تھا، سوربھ راجپوت نے 2016 میں مسکان رستوگی کے ساتھ محبت کی شادی کی تھی۔ وہ گزشتہ تین سال سے مسکان اور اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا۔
مسکان قتل کرنے کے بعد اپنے عاشق کے ساتھ چھٹیاں منانے شملہ گئیں
پولیس کے مطابق سوربھ راجپوت کو آخری بار 4 مارچ کو دیکھا گیا تھا، جس دن اس کا مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران مسکان اور اس کے عاشق ساحل نے 4 مارچ کو سوربھ کو چاقو مار کر قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ پولیس نے بتایا کہ پھر انہوں نے اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، باقیات کو پلاسٹک کے ڈرم میں رکھا اور جرم کو چھپانے کے لیے اس میں سیمنٹ بھر دیا۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ قتل کرنے کے بعد مسکان مبینہ طور پر ساحل کے ساتھ شملہ پہاڑی اسٹیشن پر چھٹیاں منانے گئی تھی۔
مقامی لوگوں نے دیکھا کہ مسکان نے گھر کو تالا لگا دیا تھا اور پڑوسیوں کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہماچل پردیش گھومنے جاری رہیں ہیں۔ اس دوران شک سے بچنے کے لیے اس نے اپنے فون سے سوربھ راجپوت کے گھر والوں کو گمراہ کن پیغامات بھیجے۔ مسکان 12 دن تک شملہ سے انسٹاگرام پر ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کرتی رہی تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ تفریح کررہے ہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ساحل گانجا پیتا تھا اور اس نے مسکان کو اس کا عادی بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے مسکان اسے چھوڑ نہیں پا رہی تھی۔ رپورٹس کے مطابق مسکان اور ساحل کے درمیان پہلے ہی جسمانی تعلقات تھے اور ساحل مسکان پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں نے شملہ کے ایک مندر میں شادی بھی کی۔
اس طرح قتل کا انکشاف ہوا
اس قتل کا راز اس وقت کھلا جب 18 مارچ کو سوربھ راجپوت کا چھوٹا بھائی راہول برہما پوری کے اندرا نگر سیکنڈ میں اپنے بھائی کے گھر پہنچا۔ یہاں اس نے مسکان کو ایک لڑکے (ساحل) کے ساتھ گھومتے ہوئے دیکھا۔ بھائی کہاں ہے؟ اس سے پوچھا گیا تو مسکان صحیح جواب نہ دے سکی۔ گھر کے اندر سے بھی بدبو آرہی تھی۔ راہل نےشورمچایا تو پڑوسی بھی جمع ہو گئے۔ پولیس پہنچی تو قتل کا چونکا دینے والا انکشاف ہوا۔ پولیس حراست میں مسکان اور ساحل نے قتل کی پوری کہانی بیان کی۔
پولیس نے مسکان اور ساحل دونوں کو گرفتار کر لیا گیا جو انہیں اس گھر تک لے گئے ،جہاں لاش چھپائی گئی تھی۔ دو گھنٹے کی کوشش کے باوجود پولیس سیمنٹ کے سخت ہونے کی وجہ سے ڈرم کو کھولنے میں ناکام رہی اور اسے مردہ خانے بھیجنا پڑا جہاں سے لاش کو نکالنے کے لیے آخر کار ڈرم کو کاٹا گیا۔
پولیس نے کیا بتایا
میرٹھ کے ایس پی سٹی آیوش وکرم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، “ہمیں اندرا نگر میں ایک مشتبہ قتل کی اطلاع ملی، تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ سوربھ راجپوت جو مرچنٹ نیوی میں کام کرتے تھے، 4 مارچ سے لاپتہ تھی۔
پولیس کی جانب سے ڈھول برآمد ہونے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد گھر کے باہر جمع ہوگئی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اہل خانہ کی شکایت پر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش کی جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…