شیلانگ: ریاست میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ سے تعلق رکھنے والے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو جے سنگ کون کا جمعرات کی شام دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ وہ 54 برس کے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ فٹسال فٹبال میچ کھیلنے کے دوران اچانک گر پڑے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو شیلانگ میں ایک دوستانہ فٹبال مقابلے میں حصہ لے رہے تھے۔ کھیل کے دوران اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ میدان میں ہی بے ہوش ہو کر گر گئے۔ موقع پر موجود افراد نے فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی اور انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا، مگر کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ میگھالیہ کے عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی ہمدردیاں مرحوم کے اہل خانہ، دوستوں اور حامیوں کے ساتھ ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے بھی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو کے اچانک انتقال پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو ایک نرم دل اور عوام دوست لیڈر تھے جنہوں نے ہمیشہ ریاست کے لوگوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق میگھالیہ نے ایک مخلص عوامی نمائندہ کھو دیا ہے جس کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔
رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو ریاست میگھالیہ کے دو لوک سبھا اراکین میں شامل تھے اور وہ وائس آف دی پیپل پارٹی کے نمایاں لیڈر مانے جاتے تھے۔ شیلانگ پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے خاصی اور جینتیا ہلز کے علاقوں میں عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں پارلیمنٹ تک پہنچایا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رکی اینڈریو اپنی سادگی، عوام سے قریبی رابطے اور زمینی سطح پر مضبوط موجودگی کے باعث خاصی مقبولیت رکھتے تھے۔ وہ اکثر سماجی سرگرمیوں اور کھیلوں کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں بھی ان کی خاص پہچان تھی۔
دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث ڈاکٹروں کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ریاست بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ریاستی حکومت اور پارٹی لیڈروں نے مرحوم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختصر مگر مؤثر سیاسی زندگی میں عوامی خدمت کی روشن مثال قائم کی۔ ان کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ہزاروں حامیوں کی شرکت متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…
چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…