قومی

Premanand Maharaj And Acharya Lokesh Muni: ورنداون میں پریمانند مہاراج اور آچاریہ لوکیش مُنی کی ملاقات، مذہب اور عالمی امن پر تفصیلی گفتگو

نئی دہلی: دھرم نگری ورنداون میں دو عظیم روحانی روایتوں کا حسین سنگم دیکھنے کو ملا، جہاں معروف سنت پریمانند جی مہاراج اور اہنسا وشو بھارتی کے بانی جین آچاریہ لوکیش مُنی کے درمیان ایک اہم روحانی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران عالمی امن، روس-یوکرین جنگ، بھٹکتی ہوئی نوجوان نسل اور مذہب و روحانیت کے باہمی ربط جیسے سنجیدہ موضوعات پر گہری اور بامقصد گفتگو کی گئی۔ آچاریہ لوکیش مُنی نے سنت پریمانند مہاراج کو آگاہ کیا کہ دہلی میں بھارت کا پہلا ’’عالمی امن مرکز‘‘ تعمیر کے آخری مرحلے میں ہے۔ انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس
تنازع کے پُرامن حل کے لیے عملی کوششوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اسی مقصد کے تحت وہ سنت پریمانند مہاراج سے خصوصی آشیرواد لینے آئے ہیں۔ آچاریہ لوکیش مُنی کا کہنا تھا کہ سنتوں کی روحانی طاقت اور آشیرواد ہی پوری دنیا کو امن اور اتحاد کے دھاگے میں باندھ سکتے ہیں۔

اس پر سنت پریمانند جی مہاراج نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انسان کے اندر سے راگ اور دویش ختم نہیں ہوں گے، حقیقی امن ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں مذہب کو روحانیت کے ساتھ جوڑنا سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ گفتگو کے دوران آچاریہ لوکیش مُنی نے نوجوان نسل کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان نشہ اور بے راہ روی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں پریمانند جی مہاراج کی رہنمائی نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھا رہی ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اس پر پریمانند جی مہاراج نے نوجوانوں کو سماج کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح جسم میں ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جائے تو پورا جسم ڈگمگا جاتا ہے، اسی طرح اگر نوجوان نسل راستے سے بھٹک جائے تو قوم کا مستقبل اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے ثقافت اور اپ ثقافت کے درمیان جاری کشمکش کو ’’دیے اور طوفان‘‘ کی لڑائی قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کے لیے درست رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال پیش کرتے ہوئے آچاریہ لوکیش مُنی نے کہا کہ جب انہوں نے ایک جین مُنی ہوتے ہوئے رام کتھا کا اہتمام کیا تو کئی لوگ حیران رہ گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جین دھرم میں بھگوان رام کا وہی مقام ہے جو بھگوان آدیناتھ یا بھگوان مہاویر کا ہے، کیونکہ رام بھی موکش گامی اور پرماتما ہیں۔ اس خیال کی تائید کرتے ہوئے پریمانند جی مہاراج نے کہا کہ جب یہ سمجھ آ جائے کہ پرماتما ایک ہے تو فرقہ واریت، نفرت اور تکرار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آخر میں دونوں سنتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حقیقی مکتی غصہ، انا، مایا اور لالچ سے نجات حاصل کرنے میں ہے۔ آچاریہ لوکیش مُنی نے پریمانند جی مہاراج کے درشن کو اپنی زندگی کا سعادت مند لمحہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک نایاب سنت سنگم بتایا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Atal Awasiya Yojana: اتر پردیش کی بیٹیوں کو ملے گی بالکل مفت تعلیم، اٹل آواسیا یوجنا سے فائدہ اٹھانے کے لیے جانیے کیا کرنا ہوگا

اٹل آواسیا یوجنا کے تحت مزدوروں اور یتیم بچوں کی بیٹیوں کو چھٹی سے بارہویں…

33 minutes ago

Weather Update: اگلے 8 گھنٹوں میں 13 ریاستوں میں موسم کی دوہری مار، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طوفان اور موسلادھار بارش کا الرٹ

محکمہ موسمیات نے تمل ناڈو، کیرالہ اور مہاراشٹر سمیت 13 ریاستوں میں تیز بارش اور…

3 hours ago