قومی

Mayawati : یوپی کے کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں مایاوتی کی آواز، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے کیا خاص مطالبہ

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے ریاست میں آؤٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہونے والی بھرتیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس نظام کو استحصالی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ برسوں سے عارضی طور پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل ملازمت فراہم کی جائے۔ مایاوتی نے خاص طور پر قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کے تحت کئی برسوں سے مسلسل خدمات انجام دینے والے کنٹریکٹ ملازمین کو محکمہ صحت میں مستقل کرنے کی اپیل کی ہے۔

عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے: مایاوتی

مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے آئندہ 6 ماہ میں ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے حال ہی میں اگلے 6 ماہ کے اندر ایک لاکھ لوگوں کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے، لیکن بہتر ہوتا کہ ان سرکاری محکموں میں برسوں سے عارضی طور پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی مستقل ملازمت کے نظام میں شامل کیا جاتا۔مایاوتی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بہوجن سماج پارٹی خاص طور پر سرکاری نظام میں آؤٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمت دینے کے استحصالی طریقے کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ملازمتوں پر تقرری کے عمل کے دوران این آر ایچ ایم کے تحت کئی برسوں سے مسلسل خدمات انجام دینے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو بھی محکمہ صحت میں مستقل کیا جانا چاہیے۔

لکھنؤ میں ملازمین کا احتجاج

مایاوتی نے اپنے بیان میں ان ملازمین کا بھی ذکر کیا جو مستقل ملازمت سمیت اپنے مطالبات کی حمایت میں گزشتہ کئی دنوں سے لکھنؤ کے مانور شری کانشی رام جی ایکو گارڈن کے قریب دھرنا دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ملازمت کے تحفظ اور مستقل تقرری کا فائدہ ملنا چاہیے۔ مایاوتی نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ نئی سرکاری بھرتیوں کے ساتھ پہلے سے کام کررہے عارضی ملازمین کے مستقبل پر بھی توجہ دی جائے۔

یوگی حکومت نے 6 ماہ میں ایک لاکھ ملازمتوں کا اعلان کیا

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان بھرتیوں کو شفاف اور غیر جانب دار طریقے سے مکمل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔اس اعلان کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اسے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں حکومت کے اقدام کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔دوسری جانب، مایاوتی کے مطالبے نے برسوں سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی اور سرکاری محکموں میں آؤٹ سورسنگ کے نظام پر بحث کو دوبارہ موضوع بنا دیا ہے۔ اب اس معاملے میں ریاستی حکومت کے اگلے قدم پر نظر رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rahul Gandhi at Press Conference: وزیر اعظم سے لے کر سپاہی تک کو سزا دلوائیں گے، پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کا اعلان

راہل گاندھی نے پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: پوپ لیو چہاردہم کی سرجری کے بعد وزیر اعظم مودی نے جلد صحت یابی کی پرارتھناکی

سرجری کے دوران جانچے گئے بافتوں سے پہلے کیے گئے ٹیسٹوں کی بنیاد پر لگائے…

4 hours ago