قومی

Homi Bhabha Cancer Hospital: ہومی بھابھا کینسر اسپتال کی تحقیق: شمالی ہندوستان کے 1000 خاندانوں کی جانچ، تقریباً 30 فیصد میں موروثی کینسر کا خطرہ

نیو چنڈی گڑھ، 14 اکتوبر: ہومی بھابھا کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، نیو چنڈی گڑھ میں قائم کینسر جینیٹکس کلینک نے شمالی ہندوستان کے کینسر سے متاثرہ 1000 خاندانوں کی جانچ اور مشاورت کے دوران پایا ہے کہ ان میں سے تقریباً 30 فیصد خاندانوں میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں جو موروثی کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس جانچ کا مقصد ایسے افراد کی شناخت کرنا ہے جنہیں علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی موروثی طور پر کینسر ہونے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، تاکہ بروقت تشخیص، احتیاطی تدابیر اور انفرادی ضرورت کے مطابق علاج کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔

اسپتال کا خصوصی کینسر جینیٹکس کلینک جنوری 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت اب تک شمالی ہندوستان کے 1000 سے زیادہ خاندانوں کی جانچ اور مشاورت کی جاچکی ہے۔ ہومی بھابھا کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، پنجاب، حکومت ہند کے محکمۂ جوہری توانائی کے تحت قائم ٹاٹا میموریل سینٹر کی ایک اکائی ہے۔

912 مریضوں کی جینیاتی جانچ، تقریباً 30 فیصد میں تبدیلیوں کی شناخت

اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق، مشاورت کے لیے آنے والے 1000 خاندانوں میں سے اب تک 912 ایسے مریضوں کی جینیاتی جانچ کی گئی ہے جو خود کینسر سے متاثر تھے اور جن کے ذریعے خاندان میں موروثی خطرے کی جانچ کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مریضوں میں جینیاتی تبدیلیوں کی شناخت کی مجموعی شرح تقریباً 30 فیصد رہی۔

جینیاتی تبدیلی سے مراد جینیاتی کوڈ میں ایسی تبدیلی ہے جو موروثی طور پر منتقل ہوسکتی ہے اور بعض حالات میں کسی بیماری، بشمول کینسر، کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اسپتال کے جینیاتی ماہرین کے مطابق، شناخت کی گئی جینیاتی تبدیلیوں میں تقریباً 95 فیصد کا تعلق چھاتی اور بیضہ دانی کے کینسر سے تھا۔ اس کے علاوہ، ان مریضوں کے 132 ایسے خونی رشتہ داروں کی بھی جانچ کی گئی جنہیں موروثی خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ ان میں بہن بھائی، والدین اور بچے شامل تھے۔ اس عمل سے خاندان کے دیگر افراد میں کینسر کے خطرے کی شناخت، بروقت اسکریننگ اور احتیاطی اقدامات کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔

خون کے سادہ ٹیسٹ سے جینیاتی خطرے کی شناخت

ہومی بھابھا کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آشیش گولیا نے بتایا کہ جینیاتی جانچ عموماً خون کے ایک سادہ ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ طبی ضرورت کے مطابق اس میں 26 سے 84 جینز کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیسٹ کے نتائج سے علاج کرنے والے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا مریض میں ایسی موروثی جینیاتی تبدیلی موجود ہے جو مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر گولیا کے مطابق، اس معلومات کی بنیاد پر مریض کے لیے انفرادی نوعیت کے علاج، زیادہ قریبی طبی نگرانی، احتیاطی اقدامات اور ضرورت پڑنے پر خطرے کو کم کرنے کے لیے سرجری پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے رشتہ داروں کی شناخت بھی ممکن ہوتی ہے جنہیں جینیاتی جانچ اور باقاعدہ اسکریننگ سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

کن افراد کو جینیاتی مشاورت کرانی چاہیے؟

ڈاکٹر گولیا نے کہا کہ اگر کسی خاندان میں کئی افراد کینسر سے متاثر ہوں، خصوصاً اگر انہیں ایک جیسی یا متعلقہ اقسام کا کینسر ہوا ہو، تو جینیاتی مشاورت پر غور کرنا چاہیے۔ کم عمر میں کینسر کی تشخیص ہونے کی صورت میں بھی اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاندان میں کینسر کی سابقہ تاریخ نہ ہونے کے باوجود بھی موروثی کینسر کا شبہ ہوسکتا ہے۔ اس کی چند اہم علامات یہ ہیں:

– کسی مخصوص کینسر کے لیے غیر معمولی طور پر کم عمر میں بیماری کی تشخیص ہونا۔

– دونوں چھاتیوں جیسے جوڑے والے اعضا میں کینسر پیدا ہونا۔

– جسم کے مختلف اعضا میں ایک سے زیادہ بنیادی کینسر ہونا۔

– موروثی کینسر سے متعلق کسی بیماری کی نشانیاں ظاہر ہونا، مثلاً پولپس، سسٹ، مٹر کے دانے جتنی چھوٹی گانٹھیں یا جلد اور آنکھوں پر رنگ دار دھبے۔

ڈاکٹر گولیا کے مطابق، مریض کی طبی اور خاندانی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے چھاتی، بیضہ دانی، معدے اور آنتوں، پروسٹیٹ اور دیگر اقسام کے کینسر میں مبتلا بعض افراد کے لیے بھی جینیاتی مشاورت مفید ہوسکتی ہے۔

سنگرور میں بھی شروع ہوا کینسر جینیٹکس کلینک

اسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ہومی بھابھا کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، پنجاب نے اپنے سنگرور مرکز میں بھی کینسر جینیٹکس کلینک شروع کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسپتال میں جینیاتی جانچ کی اپنی سہولت قائم کرنے کی سمت میں بھی کام کیا جارہا ہے۔ فی الحال جینیاتی جانچ کے لیے نمونے ٹاٹا میموریل سینٹر، ممبئی بھیجے جاتے ہیں۔

اسپتال میں کینسر جینیٹکس کلینک جینیٹک کونسلر ہاشمے اسماعیل، ریڈی ایشن آنکولوجسٹ ڈاکٹر پرگیات ٹھاکر اور شعبۂ میڈیکل آنکولوجی کی سربراہ ڈاکٹر سیما گولیا کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، موروثی کینسر کے خطرے کی بروقت شناخت سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو مناسب طبی نگرانی، احتیاطی اقدامات اور ضرورت کے مطابق علاج کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، جینیاتی تبدیلی کی موجودگی لازماً اس بات کا مطلب نہیں کہ متعلقہ شخص کو کینسر ہوگا؛ اس کا خطرہ مخصوص جین، تبدیلی کی نوعیت اور دیگر عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP MLC Elections: اکھلیش یادو کا بڑا داؤ، تو یوگی آدتیہ ناتھ کی دھواں دھار ریلیاں! یوپی کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر سیاسی گھمسان

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات اسمبلی الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے…

1 minute ago

PM Narendra Modi: لیہہ ایئرپورٹ سے زانسکار تک چمکے گا لداخ، وزیر اعظم نریندر مودی 3,350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا کریں گے افتتاح

وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350…

7 minutes ago

Mayawati : یوپی کے کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں مایاوتی کی آواز، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے کیا خاص مطالبہ

مایاوتی نے اپنے بیان میں ان ملازمین کا بھی ذکر کیا جو مستقل ملازمت سمیت…

58 minutes ago

Rahul Gandhi at Press Conference: وزیر اعظم سے لے کر سپاہی تک کو سزا دلوائیں گے، پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کا اعلان

راہل گاندھی نے پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago