بی ایس پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے اتوار کو اپنے سلسلہ وار بیانات میں بھتیجے آکاش آنند کی عوامی معافی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پارٹی میں کام کرنے کا ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا ہے۔ آکاش آنند نے ایکس پر چار پوسٹوں میں خود کو مایاوتی کا سیاسی شاگرد قرار دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ کسی رشتہ دار، بالخصوص اپنے سسر اشوک سدھارتھ کی مداخلت کو سیاست میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ مایاوتی نے اس کے جواب میں لکھا کہ آکاش آنند نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے، سینئر رہنماؤں کا احترام کرنے اور مکمل طور پر پارٹی اصولوں پر چلنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس بنیاد پر انہیں ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کی قیادت کا سوال نہیں اٹھتا۔
آکاش آنند پارٹی سے نکالے جانے کے بعد مسلسل رابطے میں رہے
اپنی دوسری پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’میں مکمل طور پر صحت مند اور پارٹی چلانے کے قابل ہوں، اس لیے جانشینی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ مایاوتی نے یہ بھی بتایا کہ آکاش آنند پارٹی سے نکالے جانے کے بعد مسلسل رابطے میں رہے اور اندرونی سطح پر معافی مانگتے رہے۔ انہوں نے پرانے اور تجربہ کار کارکنوں سے سیکھنے کے جذبے کا بھی اظہار کیا ہے۔ تاہم مایاوتی نے اشوک سدھارتھ پر سخت موقف اپناتے ہوئے لکھا، ’’انہوں نے پارٹی میں گروہ بندی، مخالف سرگرمیوں اور آکاش آنند کے سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ایسے شخص کو پارٹی میں دوبارہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
واضح رہے کہ آکاش آنند نے سوشل میڈیا کے ذریعے مایاوتی سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ آکاش آنند کو حال ہی میں بی ایس پی سے خارج کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مسلسل کئی پوسٹیں کیں۔
مایاوتی جی واحد سیاسی گرو اور آئیڈیل
آکاش آنند نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ بی ایس پی کی قومی صدر، چار مرتبہ یوپی کی وزیر اعلیٰ اور کئی بار لوک سبھا و راجیہ سبھا کی رکن رہ چکیں مایاوتی جی کو اپنا واحد سیاسی گرو اور آئیڈیل مانتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اب پارٹی کے مفاد میں اپنے ذاتی رشتے، خاص طور پر سسرالی تعلقات کو کبھی بھی مداخلت یا رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو پوسٹ ان کی جانب سے کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں انہیں پارٹی سے نکالا گیا، اس پر انہیں افسوس ہے اور وہ اس کے لیے دل سے معذرت خواہ ہیں۔ آکاش آنند نے وعدہ کیا کہ مستقبل میں وہ اپنے کسی بھی سیاسی فیصلے میں کسی رشتہ دار یا مشیر سے مشورہ نہیں لیں گے بلکہ صرف بہن جی یعنی مایاوتی کے دیے ہوئے ہدایات پر ہی عمل کریں گے۔
میری تمام غلطیوں کو معاف کر کے مجھے دوبارہ موقع دیں
آکاش آنند نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ پارٹی کے بزرگوں اور سینئر کارکنوں کی مکمل عزت کریں گے اور ان کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق، ان کی تمام تر وفاداری پارٹی اور مایاوتی جی کے نظریات سے وابستہ رہے گی اور وہ بی ایس پی کے اصولوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اپنی اپیل میں انہوں نے لکھا، ’’میری تمام غلطیوں کو معاف کر کے مجھے دوبارہ پارٹی میں کام کرنے کا موقع دیا جائے، اس کے لیے میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کوئی ایسی غلطی نہیں کروں گا، جس سے پارٹی یا بہن جی کے وقار کو ٹھیس پہنچے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ…
الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان سابق جوائنٹ ڈائریکٹر محمد امین نے…
راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016…
گرین انرجی کوریڈور فیز-III کو کابینہ کی منظوری، 135 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل…
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…